ٹک ٹاکر علینہ عامر کی متنازع ویڈیو سے متعلق اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
مشہور ٹک ٹاکر علینہ عامر نے اپنی متنازع ڈیب فیک ویڈیو بنانے اور پھیلانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے کہا کہ میں تمام لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچاؤں گی۔
علینہ عامر کی دو ہفتے قبل ایک متنازع ویڈیو وائرل ہوئی تھی، اے آئی سے بنائی گئی اس ویڈیو میں کسی اور لڑکی کے بجائے علینہ عامر کا چہرہ لگاکر وائرل کیا گیا تھا۔
ٹک ٹاکر نے اس معاملے پر ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں اس موضوع پر بالکل بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی اور گزشتہ ایک ہفتے سے خاموشی سے سب کچھ دیکھ اور سن رہی تھی، تاہم جب سینکروں ایسی پوسٹ دیکھی کہ علینہ عامر کی ویڈیو لیک ہوگئی ہے تو میں پھر میں نے سوچا کہ ایسے لوگوں کو انہیں کی زبان میں جواب دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اپنی تازہ ویڈیو میں ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ میری ویڈیو بنانے کا یہی مقصد ہے کہ جیسے میں نے کہا تھا کہ میں اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھوں گی اور اپنے لیے آواز اٹھاؤں گی۔
انہوں نے ویڈیو میں ایف آئی آر کا اسکرین شارٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میری ڈیپ فیک ویڈیو کے معاملے پر مقدمہ درج ہوچکا ہے۔
مشہور ٹک ٹاکر علینہ عامر کا اپنی نازیبا لیک ویڈیو پر ردعمل وائرل
وائرل نازیبا ویڈیو: علینہ عامر کا معلومات فراہم کرنے پر نقد انعام کا اعلان
علینہ عامر کا کہنا تھا کہ ایف آر ان تمام لوگوں کے خلاف درج کی گئی ہے کہ جن لوگوں نے نہ صرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے اس ویڈیو کو بنایا بلکہ جنہوں نے اسے آگے پھیلایا، اپنے اکاؤنٹ سے شیئر کیا، ان تمام لوگوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر حنا پرویز بٹ سمیت این سی سی آئی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام لوگوں نے میری مدد کی۔
میں لڑکیوں کے لیے آواز بننے آئی ہوں جو ایسی ویڈیوز سے ڈرجاتی ہیں اور خاموش بیٹھ جاتی ہیں، لیکن اگر آپ سچے ہیں تو کوئی آپ کو نہیں ہراسکتا اور نہ کوئی آپ کی آواز دباسکتا ہے۔
میں بھی چاہتی تو خاموش رہتی کیوں کہ یہ معاملات 8 سے 10 دن میں ختم ہوجاتے ہیں یا لوگ بھول جاتے ہیں لیکن میں نے ایسا نہیں کیا تاکہ مستقبل میں کسی اور لڑکی کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
میں کسی کو معاف نہیں کروں گا بلکہ ان لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچاؤں گی، اللہ کا شکر ہے اللہ نے مجھے اتنی طاقت دی کہ میں نے آواز اٹھائی اور میں سب لڑکیوں کو یہی مشورہ دیتی ہوں کہ وہ بھی اپنے لیے آواز اٹھائی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل علینہ عامر کا تمام لوگوں لوگوں کو ٹک ٹاکر تھا کہ کہ میں
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔