پی ایس ایل میچز اس بار پشاور میں ہوں گے، شفیع جان
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز اس بار پشاور میں ہوں گے۔
جیو نیوز سے گفتگو میں شفیع جان نے کہا کہ آج اعلیٰ سطح اجلاس میں معیشت اور امن و امان سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امن و امان بہتر ہوتے ہی سروسز سول انتظامیہ کے حوالے کی جائیں گی۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ پی ایس ایل کے میچز اس بار پشاور میں ہوں گےجبکہ ایونٹ کے روڈ شوز بھی صوبے کے مختلف شہروں میں منعقد ہوں گے۔
دوسری طرف مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں خیبر پختونخوا کے مالی مسائل تفصیل سے زیر بحث آئے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا واجب الادا حصہ مل جائے تو کئی بڑے مالی مسائل حل ہو سکتے ہیں، ضم اضلاع کے لیے موجودہ مالی وسائل ناکافی ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ آئندہ مالی مسائل کے حل کے لیے تجاویز دی گئی ہیں، وفاق اور صوبہ مل کرمتاثرہ علاقوں کے مالی نقصانات کا ازالہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا نے کہا کہ کہا کہ ا ہوں گے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔