پی ایس ایل 2026، پشاور زلمی نے آسٹریلوی آل راؤنڈر ایرون ہارڈی کو اسکواڈ میں شامل کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
پشاور زلمی نے آسٹریلوی آل راؤنڈر ایرون ہارڈی کو ڈائریکٹ سائننگ کے ذریعے اپنی ٹیم میں شامل کرلیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ 11: جیسن گلیسپی حیدرآباد فرنچائز کے ہیڈ کوچ مقرر
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن سے قبل پشاور زلمی نے اپنے اسکواڈ کو مزید مضبوط بناتے ہوئے آسٹریلوی آل راؤنڈر ایرون ہارڈی کو ڈائریکٹ سائننگ کے طور پر سائن کرلیا ہے۔
پشاور زلمی کی جانب سے سوشل میڈیا پر اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ طویل انتظار کے بعد زلمی فینز کے لیے خوشخبری ہے کہ ایرون ہارڈی اب زلمی فیملی کا حصہ بن چکے ہیں۔
???????????????????? ????????????????, ???????????? ???????????????? ???????? ????????????????????
After your too much anticipation, we are proud to announce ???????????????????????????????????????? ????????????-???????????????????????????? ???????????????????? ???????????????????????? as our direct signing for #HBLPSL11.
A proven match-winner, Hardie brings balance, power, and… pic.twitter.com/lQOyqG8TZA
— Peshawar Zalmi (@PeshawarZalmi) February 10, 2026
فرنچائز کے مطابق ایرون ہارڈی ایک ثابت شدہ میچ ونر ہیں جو بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں شاندار صلاحیتوں کے مالک ہیں، جبکہ ان کی شمولیت سے ٹیم کو توازن، پاور اور ورسٹائل آپشنز میسر آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11، کراچی کنگز نے معین علی کو اسکواڈ میں شامل کرلیا
پشاور زلمی کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ ایرون ہارڈی کی شمولیت ٹیم کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آسٹریلوی آل راؤنڈر اسکواڈ ایرن ہارڈی پشاور زلمی پی ایس ایل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسٹریلوی آل راؤنڈر اسکواڈ ایرن ہارڈی پشاور زلمی پی ایس ایل آسٹریلوی آل راؤنڈر ایرون ہارڈی پشاور زلمی پی ایس ایل
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔