ہماری پارٹی میں خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے میں لیڈر ہوں، جنید اکبر
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر خان نے کہا کہ پی ٹی آئی میرا گھر ہے، کبھی ناراضی ہو گی کبھی جھگڑے ہوں گے اور کبھی شکوے ہوں گے، یہ سب چلتا رہے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے صدر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی پر تحفظات کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑا ہوں جبکہ ہماری پارٹی میں خان کے بعد ہر کوئی کہتا ہے کہ ان کے بعد میں لیڈر ہوں۔ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر خان نے کہا کہ پی ٹی آئی میرا گھر ہے، کبھی ناراضی ہو گی کبھی جھگڑے ہوں گے اور کبھی شکوے ہوں گے، یہ سب چلتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اچکزئی صاحب کو ابھی ایڈجسٹ ہونے میں ٹائم لگے گا، ہماری پارٹی کا اپنا کلچر ہے، میں نے جمعرات اور جمعے کو شکوہ کیا کہ میں نے بات کرنی ہے، آج کل جو چل رہا ہے، میں نے کہا میں مطمئن نہیں ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریروں میں وجوہات نہیں بتائی گئیں، آپ نے ان مسائل کا حل نہیں بتایا، جب ہر بندے کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو پھر اختلافات ہوتے ہیں۔ جنید اکبر خان نے کہا کہ سیاست ہم آخرت کے لیے نہیں بلکہ اسی دنیا کے لیے کرتے ہیں، دوسری پارٹیز میں آمریت ہے وہاں اختلاف کم ہوتا ہے، وہاں سب کو پتا ہوتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ جس نے بسنت منائی اس سے پتا کرلیں ہم تو سارا دن احتجاج میں تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنید اکبر خان نے نے کہا ہوں گے کہا کہ
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔