ملتان، ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام مسجد آل عباء نادرآباد میں شہداء کی یاد میں شمعیں روشن
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
ایم ڈبلیو ایم ملتان کے تحصیل صدر سید خرم جعفری نے کہا کہ ہم دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں اور سانحہ ترلائی کلاں کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے، مساجد و امام بارگاہوں کی سیکیورٹی فول پروف بنائی جائے، سیکیورٹی فورسز عوام کو تحفظ فراہم کرے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع ملتان کے زیراہتمام سانحہ ترلائی کلاں کے شہداء کی یاد میںمسجد و امام بارگاہ آل عباء نادرآباد پھاٹک کے باہر شمعیں روشن کی گئیں، اس موقع پر شہداء کی بلندی درجات کے لیے اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی گئیں، اس موقع پر ضلعی رہنما سید تصدق زیدی، تحصیل صدر سید خرم جعفری، صفدر عباس جعفری، بلو ملنگ اور دیگر موجود تھے۔ اس موقع پر سید خرم جعفری نے کہا کہ ہم دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں اور سانحہ ترلائی کلاں کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے، مساجد و امام بارگاہوں کی سیکیورٹی فول پروف بنائی جائے، سیکیورٹی فورسز عوام کو تحفظ فراہم کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔