ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی مداخلت کم کرنا کرپشن روکنے کے لیے ضروری ہے، وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے سرکاری نظام میں آرٹیفشل انٹیلیجینس (اے آئی) کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے شفافیت، کارکردگی اور ریونیو نظام بہتر بنایا جا رہا ہے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی مداخلت کم کرنا کرپشن روکنے کے لیے ضروری ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ورکشاپ سے خطاب میں کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں خودکار نظام اور فیس لیس پراسس شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی مداخلت کم کرنا کرپشن روکنے کے لیے ضروری ہے، اے آئی سے ریونیو لیکجز کم اور مالی نتائج بہتر ہوئے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام معیشت کو محفوظ بنانے کی کوشش ہے اور نوجوانوں کی اسکلز ڈیولپمنٹ ڈیجیٹل معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے واضح پالیسی اور مربوط حکومتی حکمت عملی ضروری ہے، اے آئی پبلک سروس، ریونیو اور کلائمیٹ منیجمنٹ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ضروری ہے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز