نوجوانوں کی اسکل ڈیویلپمنٹ، ڈیجیٹل معیشت کیلئے ناگزیر، وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب نے سرکاری نظام میں اے آئی کے مؤثراستعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے شفافیت، کارکردگی اور ریونیو نظام بہتر بنایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب نے اسلام آباد میں نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ورکشاپ سے خطاب میں کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں خودکار نظام اور فیس لیس پراسس شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ذریعےانسانی مداخلت کم کرنا کرپشن روکنے کیلئے ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اے آئی سے ریونیو لیکجز کم اور مالی نتائج بہتر ہوئے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام معیشت کو محفوظ بنانے کی کوشش ہے۔ نوجوانوں کی اسکلز ڈیویلپمنٹ ڈیجیٹل معیشت کیلئے ناگزیرہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کیلئے واضح پالیسی اورمربوط حکومتی حکمت عملی ضروری ہے۔ اے آئی پبلک سروس، ریونیو اورکلائمیٹ منیجمنٹ میں اہم کردارادا کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔