نوجوانوں کی اسکل ڈیویلپمنٹ، ڈیجیٹل معیشت کیلئے ناگزیر، وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب نے سرکاری نظام میں اے آئی کے مؤثراستعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے شفافیت، کارکردگی اور ریونیو نظام بہتر بنایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب نے اسلام آباد میں نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ورکشاپ سے خطاب میں کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں خودکار نظام اور فیس لیس پراسس شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ذریعےانسانی مداخلت کم کرنا کرپشن روکنے کیلئے ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اے آئی سے ریونیو لیکجز کم اور مالی نتائج بہتر ہوئے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام معیشت کو محفوظ بنانے کی کوشش ہے۔ نوجوانوں کی اسکلز ڈیویلپمنٹ ڈیجیٹل معیشت کیلئے ناگزیرہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کیلئے واضح پالیسی اورمربوط حکومتی حکمت عملی ضروری ہے۔ اے آئی پبلک سروس، ریونیو اورکلائمیٹ منیجمنٹ میں اہم کردارادا کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔