برطانیہ؛ افغان پناہ گزین 12 سالہ بچی کے اغوا اور زیادتی کا مجرم قرار
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
برطانیہ میں 12 سالہ بچی کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنانے والے افغان باشندے 23 سالہ احمد ملا خیل کو مجرم قرار دیدیا گیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 10 روزہ ٹرائل کے دوران جیوری کو متاثرہ بچی نے بتایا کا کہ جنسی حملے کے دوران وہ ملزم سے رکنے کی التجا کرتی رہی مگر وہ ہنستا رہا اور میرے ساتھ زبردستی عمل کرتا رہا۔
پراسیکیوٹر ڈینیئل اوسکروفٹ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے الٹا متاثرہ بچی پر ہی الزام ڈالنے کی کوشش کی جو کہ انتہائی گھناؤنا مؤقف تھا۔
ملزم نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ اسے بچی کی عمر 19 سال لگی اور یہ اس کا پہلا جنسی تجربہ تھا، تاہم جیوری نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے احمد مُلاخیل نامی افغان زہری کو جنسی زیادتی، اغوا اور بچی کی نامناسب ویڈیو بنانے کے الزامات میں مجرم ٹھہرایا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو سزا اگلی سماعت میں سنائی جائے گی۔ جج کرسٹینا مونٹگمری کے مطابق اسے طویل قید کی سزا ہوگی۔
جج کرسٹینا کے بقول سزا کے بعد افغان شہری خودکار طور پر ملک بدری کا اہل بھی ہوجائے گا اور سزا مکمل کرنے کے بعد واپس بھیج دیا جائے گا۔
اسی مقدمے میں شریک ملزم ایک اور افغان پناہ گزین 24 سالہ محمد کبیر کو گلا گھونٹنے، اغوا کی کوشش اور جنسی جرم کی کوشش کے الزامات سے بری کر دیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مُلاخیل مارچ 2025 میں فرانس سے کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا اور افغانستان میں پیش آنے والے “مسائل” کی بنیاد پر امیگریشن درخواست دے رکھی تھی۔
افغان شہری نے یہ سفاک عمل گزشتہ برس 22 جولائی کو نونیٹن میں انجام دیا تھا۔ جس پر آج سماعت مکمل ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔