اسلام آباد:

سینیٹر طلحہ محمود نے قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران کہا کہ بلوچستان میں خراب سڑکیں  بدامنی اور دہشت گردی کی بڑی وجہ ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے قائم مقام چیئرمین سینیٹر جام سیف اللہ خان نے کی۔  اجلاس میں وزارتِ مواصلات کی بجٹ تجاویز، بجٹ کے استعمال، پی ایس ڈی پی 2025-26 اور آئندہ مالی سال کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر سیکرٹری وزارتِ مواصلات کو بجٹ یوٹیلائزیشن کے حوالے سے سینیٹر طلحہ محمود کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ گلگت، بونی اور چترال کے منصوبوں کو مکس نہ کیا جائے ، ایجنڈا آئٹم وائز چلایا جائے، کیونکہ ہر ایجنڈا پوائنٹ پر علیحدہ بریفنگ کمیٹی کا طریقہ کار ہے۔

انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ ورکنگ پیپر آخری وقت دینا دانستہ عمل ہے جس سے تیاری کا موقع نہیں ملتا  جب کہ قومی مفاد میں کمیٹی کو مکمل تیاری کا موقع دیا جانا چاہیے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے واضح کیا کہ ہم حکومت کے مخالف نہیں بلکہ مل کر مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، تاہم ایجنڈا نمبر ون اور نمبر ٹو پہلے کلیئر کیا جائے۔ غیر ضروری مکس اپ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایجنڈا آئٹمز علیحدہ علیحدہ نہ کیے گئے تو مؤثر بحث ممکن نہیں ہو سکتی۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سڑکوں کے منصوبوں کے معیار پر بھی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ کنٹریکٹس میں ملتان۔سکھر موٹروے جیسا معیار یقینی بنایا جائے۔ اس پر سی ای او این ایچ اے نے مؤقف اختیار کیا کہ این ایچ اے کے منصوبے کسی ایک حکومت کے نہیں ہوتے بلکہ فیصلے حکومت کے ہوتے ہیں اور سوا چار سو ارب روپے کے منصوبوں میں فنڈنگ روکنا قومی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 71 منصوبوں میں کسی ایک پر بھی سیاسی مداخلت نہیں کی گئی۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اگر منصوبے ریوائز ہو جائیں تو ان کی لاگت چار گنا بڑھ جاتی ہے، اس لیے ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی اداروں نے اپنی آبزرویشن ریکارڈ کرائی ہے۔ غلط پالیسیوں کے باعث قومی بجٹ ضائع ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خراب سڑکیں بدامنی اور دہشتگردی کی بڑی وجہ ہیں۔ اگر رابطہ سڑکیں مضبوط ہوں تو سیکیورٹی فورسز کو آسانی ہو۔ کمیٹی میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ لوگوں کی نقل مکانی اور آپریشنز کی بڑی وجہ انفرا اسٹرکچر کی کمی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر سینیٹر طلحہ محمود نے مطالبہ کیا کہ منصوبوں کا مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر پلاننگ کمیشن کو بھی طلب کیا جائے گا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سینیٹر طلحہ محمود نے کے منصوبوں کی بڑی وجہ نے کہا کہ کیا جائے انہوں نے کیا کہ

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی