پشاور میں پی ایس ایل میچز کروانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز منعقد کروانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق کور ہیڈکوارٹر پشاور میں اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور قومی سلامتی کے مشیر نے شرکت کی جبکہ اجلاس میں کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ سول اور عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔
اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں رواں سال پشاور میں پی ایس ایل میجز کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو ماڈل کے طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماڈل کو خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
ان اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی اور عسکری کارروائیوں کا جائزہ لینے کےلیے ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں خصوصی ذیلی کمیٹی ماہانہ بنیادوں پر جائزہ اجلاس منعقد کرے گی۔
ذیلی کمیٹی میں عوامی نمائندے، چیف سیکریٹری، آئی جی، صوبائی حکام اور وفاقی اداروں کے نمائندے اور دیگر شامل ہوں گے۔
خصوصی کمیٹی گورننس اور شعبوں میں منصوبوں کی نگرانی کرے گی، کمیٹی مقامی آبادی کی مستقل آمدنی کو یقینی بنانے کےلیے متبادل روزگار کی فراہمی کے مواقع پیدا کرے گی۔ کمیٹی عارضی طور پر بےگھر افراد کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر انتظامات بھی کرے گی۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مکمل ہم آہنگی اور یکساں موقف کو یقینی بنایا جائے گا۔
نوجوانوں میں شدت پسندانہ سوچ کی روک تھام اور مثبت سوچ کے فروغ کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
اجلاس میں غیرقانونی سم کارڈز، دھماکا خیزمواد، اور بھتہ خوری کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مرحلہ وار پروفائلنگ پر توجہ بھی دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کا فیصلہ کیا گیا خیبر پختونخوا پشاور میں کرے گی
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز