وسیم اکرم پی ایس ایل فرنچائز سیالکوٹ اسٹیلینز کے صدر مقرر، لوگو کی بھی رونمائی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور : پاکستان کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم کو پی ایس ایل کی فرنچائز سیالکوٹ اسٹیلینز کا صدر مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر ٹیم کے آفیشل لوگو کی بھی باضابطہ رونمائی کی گئی، جو فرنچائز کی شناخت کے طور پر پہلی بار منظرِ عام پر آیا۔
یہ اعلان لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں الفا اوزی اسپورٹس کی جانب سے منعقدہ تقریب کے دوران کیا گیا۔ تقریب میں وسیم اکرم نے آن لائن شرکت کی اور بطور صدر سیالکوٹ اسٹیلینز کے مستقبل کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وسیم اکرم نے اس موقع پر کہا کہ وہ سیالکوٹ اسٹیلینز کو ایک مضبوط، منظم اور کامیاب فرنچائز بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے اور ٹیم کی ترقی کے لیے اپنی تمام تر تجربہ کاری بروئے کار لائیں گے۔
تقریب کے دوران فرنچائز کے آفیشل لوگو کی رونمائی بھی کی گئی، جسے شائقین کرکٹ کی جانب سے خاصی توجہ حاصل ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وسیم اکرم
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔