دوراہوں پر کھڑا پاکستان اور تاریخ کا امتحان
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
وقت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ماضی میں ہم بارہا کھڑے ہو چکے ہیں۔ یہ کوئی نیا تجربہ نہیں کیونکہ اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث ہم ہمیشہ عالمی سیاست کے دوراہوں پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ مسئلہ کبھی یہ نہیں رہا کہ راستے کتنے ہیں، اصل سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ کون سا راستہ ہمارے قومی مفاد، سلامتی اور مستقبل کے لیے بہتر ہے۔
بدقسمتی سے ہماری تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ ہم نے اکثر بہتر راستہ اختیار کرنے کے بجائے مشکل، پرخطر راہوں کا انتخاب کیا۔خطے کی سیاست ہو یا عالمی جنگی حالات، پاکستان کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن رہا ہے مگر حالات نے ہمیں بارہا ایسے فیصلوں کی طرف دھکیلا جن کی قیمت ہمیں دہائیوں تک چکانا پڑی۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہم امریکی بلاک کا حصہ بن گئے۔
اس کی بنیادی وجہ بھارت کا سوویت یونین کے قریب جانا تھا مگر اس فیصلے نے ہماری خارجہ پالیسی کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جہاں خطرے زیادہ اور فوائد کم تھے ۔سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے وقت ہم امریکا، نیٹو اور عرب ممالک کے ساتھ پوری قوت سے کھڑے ہوئے اور جب ایک دہائی بعد خود امریکا نے افغانستان پر چڑھائی کی تو ہم نے ایک بار پھر اسی صف میں کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔ اس بحث میں الجھنا اب شاید غیر ضروری ہے کہ یہ فیصلے درست تھے یا غلط مگر تاریخ کا ایک سچ آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے ، جب بھی ہم نے اتحادیوں کا ساتھ دیا، ہم اس کی تپش سے محفوظ نہ رہ سکے۔ دہشت گردی کے شعلے آج بھی ہمارے سماج، معیشت اور امن کو جھلسا رہے ہیں۔ اگرچہ بدامنی میں کسی حد تک کمی ضرور آئی ہے مگر یہ کمی اس قیمت پر حاصل ہوئی ہے جس کا اندازہ شاید آنے والی نسلیں بہتر طور پر کر سکیں گی۔
اب امریکا کی ایران کے خلاف ممکنہ جارحیت کے تناظر میں ایک بار پھر وہی خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھے گی یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اگر یہ تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو پاکستان کہاں کھڑا ہو گا؟ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال پاکستان کو ایک بار پھر ایک ایسے دوراہے پر لے آئی ہے جہاں ہر راستہ خطرات سے بھرا دکھائی دیتا ہے۔افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ایک نئی جنگ کے سائے پاکستان کی دوسری سرحد پر منڈلانے لگے ہیں۔ عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں جھوٹے الزامات، غلط معلومات اور بعد ازاں معذرت کے باوجود تباہی کے اثرات آج تک ختم نہیں ہو سکے۔ افغانستان میں امریکا نے بے پناہ جانی اور مالی نقصان اٹھایا مگر اس کے باوجود کابل کے محدود حصے کے سوا کہیں پائیدار نظام قائم نہ کر سکا۔ باقی ملک طویل عرصے تک بے یقینی اور بدامنی کی تصویر بنا رہا۔
امریکا کے صدر ٹرمپ جنگیں رکوانے کے دعوے کرتے ہیں اور پاکستان کو دوست بھی کہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی دوستی ہمیشہ مفادات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ امریکا وہ طاقت ہے جو سات سمندر پار بیٹھ کر بھی کسی ملک میں مداخلت کر سکتی ہے کیونکہ وہ کسی ایسی قوت کو برداشت نہیں کرتا جو اس کے عالمی منصوبوں میں رکاوٹ بنے۔ایران کے خلاف حالیہ امریکی جارحیت اسی سوچ کا عملی مظاہرہ ہے۔ جوہری توانائی کا حصول کسی بھی خودمختار ریاست کا حق ہے مگر یہ حق اگر کسی مسلمان ملک کو حاصل ہو تو وہ امریکا کی نظر میں ناقابلِ قبول بن جاتا ہے۔ ایران کے بعد اگر کسی ملک پر نظریں اٹھ سکتی ہیں تو وہ پاکستان ہے کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ۔ بہانے ہمیشہ تلاش کر لیے جاتے ہیں مگر ایک مسلمان ملک کی ایٹمی صلاحیت بہرحال قابلِ برداشت نہیں سمجھی جاتی۔
امریکا نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کی تعریف بھی اپنے مفاد کے مطابق ترتیب دی ہے۔ جاپان پر ایٹم بم گرانا دہشت گردی نہیںلیکن کوئی مظلوم اگر بندوق اٹھا لے تو وہ دہشت گرد قرار پاتا ہے۔ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی بھی امریکا کی طویل المدت منصوبہ بندی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ ایران کے پاس تیل ہے۔ ہماری شمال مغربی سرحد پہلے ہی غیر محفوظ ہے اور اب دوسری سرحد پر بھی نئے امتحان کی تیاری کی جا رہی ہے۔
پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ امریکا کی دوستی بھی آسان نہیں اور دشمنی مول لینے کی سکت بھی ہمارے پاس نہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ جذبات کے بجائے عقل، وقتی مفاد کے بجائے قومی مفاد اور دباؤ کے بجائے تدبر کو بنیاد بنایا جائے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ غلط راستے کا انتخاب صرف راستہ نہیں بدلتا، پوری قوم کی تقدیر بدل دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایک بار پھر امریکا کی کے بجائے ایران کے بھی ہم
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔