کوئٹہ، ساڑھے گیارہ کروڑ کی ڈکیتی، قائم مقام ڈی ایس پی سمیت 7 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے دارالحکومت میں ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کی بڑی ڈکیتی میں ملوث قائمقام ڈی ایس پی اور تین پولیس اہلکاروں سمیت سات ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ کے مطابق گرفتار ملزمان سے مجموعی طور پر 2 کروڑ 37 لاکھ روپے نقدی برآمد کی گئی ہے، جبکہ گرفتار قائمقام ڈی ایس پی کے قبضے سے 40 لاکھ روپے نقد رقم برآمد ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان 17 افراد پر مشتمل گروہ کا حصہ ہیں اور دیگر 10 ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیںمریم نواز ایک روزہ سرکاری دورے پر کوئٹہ پہنچ گئیں
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے دو ماہ قبل مسجد روڈ کٹ پیس مارکیٹ کے شاپنگ سینٹر میں ساڑھے گیارہ کروڑ روپے کی ڈکیتی کی واردات کی تھی۔
سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور تمام ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔