ملکی حالات کے پیش نظر ضلعی افسران انتظامیہ سے رابطے میں رہے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کندھکوٹ(نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر کشمور ایٹ کندھکوٹ آغا شیر زمان کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے سوشل پولیٹیکل ڈومین اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تینوں تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، رینجرزدی ایس آر ، ڈی ایس پی ، قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کے ضلعی سربراہان، وفاقی و صوبائی محکموں کے افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور چیئرمین کوآرڈینیشن کمیٹی آغا شیر زمان نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کی گئی ہے، جس میں پولیس، ایکسائز، خفیہ اداروں کے ضلعی سربراہان، خوراک، زراعت، توانائی، لیبر، سوشل ویلفیئر، ویمن ڈیولپمنٹ، اوقاف، زکوٰۃ سمیت دیگر متعلقہ محکمے شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کا مقصد غیر قانونی اور نان کسٹم پیڈ اشیا کی روک تھام، اینٹی انکروچمنٹ کارروائیاں، غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف اقدامات، غیر ملکی افغان باشندوں کی نشاندہی، ضلع میں کام کرنے والی فلاحی این جی اوز کی کارکردگی پر نظر رکھنا اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام افسران ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں۔ دشمن عناصر کی جانب سے پھیلائے جانے والے غلط پروپیگنڈے کا مؤثر اور بروقت جواب دیا جائے تاکہ جھوٹی خبروں کے باعث کسی قسم کی افراتفری پیدا نہ ہو۔انہوں نے کمیٹی کے ارکان پر زور دیا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کارروائیوں میں تیزی لائی جائے تاکہ ان کارروائیوں کی رپورٹس ایپکس کمیٹی کو ارسال کی جا سکیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیا کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور منشیات کی روک تھام کے لیے بھی مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران فول پروف سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے، جبکہ رمضان المبارک کے دوران بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے بھی متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.