قائمہ کمیٹی کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس، اہم قومی امور کا جائزہ لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-08-7
اسلام آباد(صباح نیوز) ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں اہم قومی نوعیت کے امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری کی جانب سے 15 اگست 2025 کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے‘‘ورچوئل اثاثہ جات بل، 2025’’، سینیٹر ضمیر حسین گھمرو اور سینیٹر جان محمد کی جانب سے 14 نومبر 2025 کو پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس، اور سینیٹر سید وقار مہدی کی جانب سے رول 218 کے تحت پیش کردہ تحریک پر غور کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ورچوئل اثاثہ جات بل، 2025 کے حوالے سے سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ بل کا جائزہ لینے سے قبل متعلقہ وزیر کو کمیٹی کو بریف کرنا چاہیے تھا آج وہ کمیٹی اجلاس میں اس بل کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ اس بل پر پہلے ہی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ خاصا کام کر چکی ہے اور چند شقیں باقی رہ گئیں تھیں۔ سینیٹر سلیم مانڈی والا نے کہا کہ انہوں نے بل کا مکمل جائزہ نہیں لیا۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر بل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ کمیٹی اجلاس میں وزیر خزانہ، وزیر پارلیمانی امور،گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایس ای سی پی، چیئرمین ایف بی آر، سیکرٹری آئی ٹی، سکریٹری خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو طلب کر لیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی برائے اجلاس میں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :