قومی کمیشن برائے وقار نسواں کا صنفی مساوات پرمشاورتی اجلاس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-08-9
کراچی (اسٹاف رپورٹر) قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور یورپی اتحاد کے تعاون سے، حقوقِ پاکستان 2 منصوبے کے تحت، نجی شعبے میں صنفی مساوات کے موضوع پر کراچی میں پہلا صوبائی مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کی صدارت اور خطاب چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اْمہ لیلیٰ اظہر نے کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ محض علامتی اقدامات کے بجائے خواتین کے لیے باوقار، محفوظ اور مساوی کام کے مواقع اور مؤثر داد رسی کے نظام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔چیئرپرسن نے کہا کہ کراچی جو ملک کا معاشی مرکز اور نجی روزگار کا بڑا محور ہے، اس مکالمے کے آغاز کے لیے ایک موزوں مقام ہے، جہاں خواتین کو رسمی اور غیر رسمی شعبوں میں متعدد عملی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ملازمت کے دوران امتیاز، ہراسانی اور محنت کشوں کے حقوق سے متعلق قوانین موجود ہیں، تاہم کمزور نفاذ، ادارہ جاتی ہم آہنگی کا فقدان اور طاقت کے عدم توازن کے باعث خواتین کو بھرتی، مساوی اجرت، ملازمت کے تحفظ، پیشہ ورانہ ترقی اور شکایات کے ازالے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ مشاورتی اجلاس میں نجی شعبے، مالیاتی اداروں، ٹیکسٹائل و ملبوسات، صنعت، خدماتی شعبے، گھریلو اور غیر رسمی محنت سے وابستہ خواتین، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور خواتین کے حقوق کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کراچی: چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں اْمہ لیلیٰ اظہرکا شرکاء کے ساتھ گروپ فوٹو
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔