data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-08-10
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر درخواست گزاروں کو جوڈیشل کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواستیں نمٹا دی ہیں۔ سماعت کے دوران چیف فائر آفیسر ہمایوں خان، گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا اور پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف فائر آفیسر کی جانب سے تحریری جواب بھی عدالت میں جمع کرا یا گیا۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے مؤقف اختیار کیا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کرانا فائر بریگیڈ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، فائر بریگیڈ حکام نے 2021ء میں گل پلازہ میں فائر سیفٹی سروے کیا تھا، جس میںایس او پیز کے تحت فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور مشاہدات کے بعد فائر سیفٹی انتظامات میں موجود خامیوں سے گل پلازہ انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران فائر بریگیڈ نے جانفشانی سے ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن میں حصہ لیا، اس دوران فائر بریگیڈ کا ایک اہلکار فرقان شہید بھی ہوا۔ چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ چیف سیکرٹری سندھ کی ہدایت پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کے تحت فائر سیفٹی آڈٹ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جو فائر بریگیڈ سمیت دیگر محکموں کے ساتھ مل کر شاپنگ مالز اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کر رہی ہیں۔درخواست گزار سلیم مائیکل کے وکیل ندیم شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کمیشن کو ہدایات جاری کرے کہ درخواست گزاروں کا مؤقف بھی سنا جائے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیف فائر ا فیسر فائر سیفٹی ا فائر بریگیڈ گل پلازہ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک