سانحہ گل پلازہ کیخلاف درخواست گزاروں کو جوڈیشل کمیشن سے رجوع کرنیکی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-08-10
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر درخواست گزاروں کو جوڈیشل کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواستیں نمٹا دی ہیں۔ سماعت کے دوران چیف فائر آفیسر ہمایوں خان، گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا اور پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف فائر آفیسر کی جانب سے تحریری جواب بھی عدالت میں جمع کرا یا گیا۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے مؤقف اختیار کیا کہ فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد کرانا فائر بریگیڈ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، فائر بریگیڈ حکام نے 2021ء میں گل پلازہ میں فائر سیفٹی سروے کیا تھا، جس میںایس او پیز کے تحت فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور مشاہدات کے بعد فائر سیفٹی انتظامات میں موجود خامیوں سے گل پلازہ انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے دوران فائر بریگیڈ نے جانفشانی سے ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن میں حصہ لیا، اس دوران فائر بریگیڈ کا ایک اہلکار فرقان شہید بھی ہوا۔ چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ چیف سیکرٹری سندھ کی ہدایت پر متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کے تحت فائر سیفٹی آڈٹ کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جو فائر بریگیڈ سمیت دیگر محکموں کے ساتھ مل کر شاپنگ مالز اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کر رہی ہیں۔درخواست گزار سلیم مائیکل کے وکیل ندیم شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کمیشن کو ہدایات جاری کرے کہ درخواست گزاروں کا مؤقف بھی سنا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف فائر ا فیسر فائر سیفٹی ا فائر بریگیڈ گل پلازہ
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔