Jasarat News:
2026-07-24@00:56:46 GMT

مذہب بدل جائے تو خبر بدل جاتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-03-5
مغرب میں مذہب بدل جائے تو خبر اس لیے بدل جاتی ہے کہ پھر خبر محض ایک واقعہ نہیں رہتی، بلکہ ایک بیانیہ بن جاتی ہے۔ اور بیانیہ اصول نہیں، طاقت طے کرتی ہے۔ جب مجرم مسلمان ہو تو خبر فوراً اس کی شناخت کے ساتھ چلتی ہے۔ اس کا پس منظر، عقیدہ، مسجد، مدرسہ، حتیٰ کہ محلہ تک کھود لیا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس نے کیا کیا، بلکہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون تھا۔ مقصد واضح ہوتا ہے یعنی پہلے سے موجود ایک خوف زدہ تصور کو زندہ رکھنا۔ اس کے برعکس جب مجرم غیر مسلم ہو، خاص طور پر طاقتور، سفید فام یا اشرافیہ سے تعلق رکھنے والا، تو اچانک صحافت کو یاد آ جاتا ہے کہ جرم فرد کا ہوتا ہے، مذہب کا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مغربی میڈیا کا دوہرا معیار بے نقاب ہوتا ہے۔ یہ لاعلمی کا نہیں، دانستہ انتخاب کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب بدلنے سے جرم نہیں بدلتا، مگر طاقت کا زاویہ بدل جائے تو خبر کا لہجہ، سرخی اور خاموشی سب بدل جاتے ہیں۔ یہی وہ خاموشی ہے جسے علامہ اقبال نے تہذیب کی خودکشی قرار دیا تھا:

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیاں بنے گا، ناپائیدار ہوگا

آج سے تقریباً 118 سال قبل لکھے گئے علامہ اقبال کا یہ شعر محض شاعری نہیں بلکہ مغربی تہذیب کے انجام پر ایک گہری، فکری پیش گوئی ثابت ہو رہی ہے۔ اقبال متنبہ کر رہے تھے کہ وہ تہذیب جو اخلاق سے خالی، روح سے عاری اور زر پرستی و خواہش پرستی کی بنیاد پر استوار ہو، آخرکار اپنے ہی ہاتھوں اپنا گلا گھونٹ لیتی ہے۔ مغرب نے علم، سائنس اور قانون کی عمارت تو بلند کی، مگر اخلاقی بنیادوں کو کمزور رکھا۔ دولت کو خدا، خواہش کو اصول اور طاقت کو حق بنا دیا گیا۔ نتیجتاً ایک ایسی تہذیب وجود میں آئی جو بظاہر شاندار مگر اندر سے کھوکھلی اور ننگی ہے، جہاں جرم طاقتور کا استحقاق اور کمزور کا مقدر بن چکا ہے۔ اسی اخلاقی زوال کی ایک ہولناک مثال جیفری ایپسٹین کا معاملہ ہے۔ طاقت، دولت اور جنسی جرائم کا یہ استعارہ جدید مغربی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ کم عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال، اْن کی اسمگلنگ، بااثر سیاسی و مالی اشرافیہ سے گہرے تعلقات اور برسوں تک قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی کہانی نے مغرب کے عدالتی اور اخلاقی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جیفری ایپسٹین یہودی النسل تھا اور یہ بات اس کے خاندانی و سوانحی ریکارڈ میں موجود ہے۔ تاہم مغربی میڈیا نے نہ اس پہلو کو نمایاں کیا، نہ اسے موضوعِ بحث بنایا اور نہ ہی اس کے مذہبی یا فکری پس منظر کو اس کے جرائم سے جوڑنے کی کوشش کی۔ یہاں مغربی صحافت نے بظاہر ایک درست اصول اپنایا کہ جرم فرد کا ہوتا ہے اور اس کی ذمے داری بھی فرد تک ہی محدود رہنی چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی اصول مسلمانوں کے لیے بھی اپنایا جاتا ہے؟

دنیا نے دیکھا کہ گیارہ ستمبر کے بعد جب بھی کسی جرم میں مسلمان کا نام آیا، مغربی میڈیا کا لہجہ یکسر بدل گیا۔ فرد کے جرم کو پورے مذہب سے جوڑ دیا گیا۔ اسلام کو تشدد، انتہاپسندی اور خطرے کی علامت بنا دیا گیا۔ اسی بیانیے کے نتیجے میں افغانستان اور عراق کی جنگیں ہوئیں، خفیہ عقوبت خانے قائم کیے گئے اور لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ اس منافقانہ رویے کا سب سے المناک پہلو یہ تھا کہ مغرب میں رہنے والے عام مسلمان، جو قانون پسند اور پْرامن شہری تھے، نفرت اور تشدد کا نشانہ بننے لگے۔ ڈاڑھی رکھنے والے مسلمان، حجاب کرنے والی خواتین، حتیٰ کہ سکھ برادری کے افراد بھی محض ظاہری شباہت کی بنیاد پر حملوں کا شکار ہوئے۔ امریکا اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مساجد پر حملے ہوئے، دکانیں جلائی گئیں اور خواتین کو کھلے عام تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سب کچھ چند افراد کے جرائم کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم بیانیے کا ثمر تھا، جس میں جرم کو فرد کے بجائے مذہب سے جوڑا گیا۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو مغربی میڈیا کی اخلاقی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔ جب مجرم مسلمان ہو تو اس کے مذہب کو سرخی بنایا جاتا ہے، اور جب مجرم طاقتور غیر مسلم ہو تو اسے محض ایک فرد یا ذہنی مریض قرار دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے جس تہذیب کے خودکشی کرنے کی بات کی تھی، وہ آج اسی مقام پر آ کھڑی ہے۔ اگر انصاف طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ ہو، تو ایسی تہذیب دیرپا نہیں رہ سکتی۔ جو شاخِ نازک پر آشیانہ بنائے، وہ ایک دن ضرور زمیں بوس ہو جاتی ہے۔

عبید مغل سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مغربی میڈیا ا جاتا ہے ہوتا ہے جاتی ہے تو خبر

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف