مذہب بدل جائے تو خبر بدل جاتی ہے
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260211-03-5
مغرب میں مذہب بدل جائے تو خبر اس لیے بدل جاتی ہے کہ پھر خبر محض ایک واقعہ نہیں رہتی، بلکہ ایک بیانیہ بن جاتی ہے۔ اور بیانیہ اصول نہیں، طاقت طے کرتی ہے۔ جب مجرم مسلمان ہو تو خبر فوراً اس کی شناخت کے ساتھ چلتی ہے۔ اس کا پس منظر، عقیدہ، مسجد، مدرسہ، حتیٰ کہ محلہ تک کھود لیا جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس نے کیا کیا، بلکہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون تھا۔ مقصد واضح ہوتا ہے یعنی پہلے سے موجود ایک خوف زدہ تصور کو زندہ رکھنا۔ اس کے برعکس جب مجرم غیر مسلم ہو، خاص طور پر طاقتور، سفید فام یا اشرافیہ سے تعلق رکھنے والا، تو اچانک صحافت کو یاد آ جاتا ہے کہ جرم فرد کا ہوتا ہے، مذہب کا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مغربی میڈیا کا دوہرا معیار بے نقاب ہوتا ہے۔ یہ لاعلمی کا نہیں، دانستہ انتخاب کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب بدلنے سے جرم نہیں بدلتا، مگر طاقت کا زاویہ بدل جائے تو خبر کا لہجہ، سرخی اور خاموشی سب بدل جاتے ہیں۔ یہی وہ خاموشی ہے جسے علامہ اقبال نے تہذیب کی خودکشی قرار دیا تھا:
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیاں بنے گا، ناپائیدار ہوگا
آج سے تقریباً 118 سال قبل لکھے گئے علامہ اقبال کا یہ شعر محض شاعری نہیں بلکہ مغربی تہذیب کے انجام پر ایک گہری، فکری پیش گوئی ثابت ہو رہی ہے۔ اقبال متنبہ کر رہے تھے کہ وہ تہذیب جو اخلاق سے خالی، روح سے عاری اور زر پرستی و خواہش پرستی کی بنیاد پر استوار ہو، آخرکار اپنے ہی ہاتھوں اپنا گلا گھونٹ لیتی ہے۔ مغرب نے علم، سائنس اور قانون کی عمارت تو بلند کی، مگر اخلاقی بنیادوں کو کمزور رکھا۔ دولت کو خدا، خواہش کو اصول اور طاقت کو حق بنا دیا گیا۔ نتیجتاً ایک ایسی تہذیب وجود میں آئی جو بظاہر شاندار مگر اندر سے کھوکھلی اور ننگی ہے، جہاں جرم طاقتور کا استحقاق اور کمزور کا مقدر بن چکا ہے۔ اسی اخلاقی زوال کی ایک ہولناک مثال جیفری ایپسٹین کا معاملہ ہے۔ طاقت، دولت اور جنسی جرائم کا یہ استعارہ جدید مغربی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ کم عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال، اْن کی اسمگلنگ، بااثر سیاسی و مالی اشرافیہ سے گہرے تعلقات اور برسوں تک قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی کہانی نے مغرب کے عدالتی اور اخلاقی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جیفری ایپسٹین یہودی النسل تھا اور یہ بات اس کے خاندانی و سوانحی ریکارڈ میں موجود ہے۔ تاہم مغربی میڈیا نے نہ اس پہلو کو نمایاں کیا، نہ اسے موضوعِ بحث بنایا اور نہ ہی اس کے مذہبی یا فکری پس منظر کو اس کے جرائم سے جوڑنے کی کوشش کی۔ یہاں مغربی صحافت نے بظاہر ایک درست اصول اپنایا کہ جرم فرد کا ہوتا ہے اور اس کی ذمے داری بھی فرد تک ہی محدود رہنی چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی اصول مسلمانوں کے لیے بھی اپنایا جاتا ہے؟
دنیا نے دیکھا کہ گیارہ ستمبر کے بعد جب بھی کسی جرم میں مسلمان کا نام آیا، مغربی میڈیا کا لہجہ یکسر بدل گیا۔ فرد کے جرم کو پورے مذہب سے جوڑ دیا گیا۔ اسلام کو تشدد، انتہاپسندی اور خطرے کی علامت بنا دیا گیا۔ اسی بیانیے کے نتیجے میں افغانستان اور عراق کی جنگیں ہوئیں، خفیہ عقوبت خانے قائم کیے گئے اور لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ اس منافقانہ رویے کا سب سے المناک پہلو یہ تھا کہ مغرب میں رہنے والے عام مسلمان، جو قانون پسند اور پْرامن شہری تھے، نفرت اور تشدد کا نشانہ بننے لگے۔ ڈاڑھی رکھنے والے مسلمان، حجاب کرنے والی خواتین، حتیٰ کہ سکھ برادری کے افراد بھی محض ظاہری شباہت کی بنیاد پر حملوں کا شکار ہوئے۔ امریکا اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مساجد پر حملے ہوئے، دکانیں جلائی گئیں اور خواتین کو کھلے عام تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سب کچھ چند افراد کے جرائم کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم بیانیے کا ثمر تھا، جس میں جرم کو فرد کے بجائے مذہب سے جوڑا گیا۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو مغربی میڈیا کی اخلاقی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔ جب مجرم مسلمان ہو تو اس کے مذہب کو سرخی بنایا جاتا ہے، اور جب مجرم طاقتور غیر مسلم ہو تو اسے محض ایک فرد یا ذہنی مریض قرار دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے جس تہذیب کے خودکشی کرنے کی بات کی تھی، وہ آج اسی مقام پر آ کھڑی ہے۔ اگر انصاف طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ ہو، تو ایسی تہذیب دیرپا نہیں رہ سکتی۔ جو شاخِ نازک پر آشیانہ بنائے، وہ ایک دن ضرور زمیں بوس ہو جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مغربی میڈیا ا جاتا ہے ہوتا ہے جاتی ہے تو خبر
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔