Jasarat News:
2026-07-24@02:20:57 GMT

جہاد اور جنگ میں فرق

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-03-8
جنگ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کی۔ قرآن مجید میں اللہ پاک نے آدمؑ کے دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا تھا انسانی تاریخ میں یہ پہلا قتل تھا اس کے بعد انسانوں کے درمیان جنگ و جدال کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جنگ عموماً اپنی قوت و بڑائی کا سکہ منوانے لوگوں کی گردنیں اپنے سامنے جھکوانے مال و زر اور کشور کشائی کے لیے لڑی جاتی ہیں ان جذبات اور مقاصد کے لیے لڑی جانے والی جنگوں نے انسان کو ذلت اور رسوائی اور زمین کو فتنہ و فساد کے سوا کچھ نہ دیا۔ جنگوں کے بارے میں ملکہ سبا کی زبانی قرآن میں جو نقشہ پیش کیا گیا ہے سورہ نمل میں فرمایا کہ: ملکہ نے کہا بادشاہ جب کسی ملک میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کرتے ہیں یہی کچھ وہ کرتے ہیں۔ جو جنگ زمین میں کسی فرد یا قوم کی بالادستی کے بجائے اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور اس کے حاکمیت قائم کرنے کے لیے لڑی جائے اس سے یقینا فتنہ و فساد ختم ہوتا ہے اور اصلاح کا راستہ کھلتا ہے۔ اللہ کے انبیاء میں سے جن انبیاء نے جنگیں لڑیں ان کے پیش نظر حق و انصاف کا قیام اور مساوات انسانی اور اصلاح کا حصول ہی ہوتا تھا نہ کہ وہ انسانوں کی گردنیں اپنے ذات کے سامنے جھکانے کے علمبردار تھے نہ ہی ان کا مقصد ایک قوم کو دوسری قوم پر مسلط کرنا تھا، اللہ کے حکمرانی ہی سے سب کا بھلا ہوتا ہے بقول حکیم الامت علامہ محمد اقبال

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بُتانِ آزری

اللہ کے نزدیک انسانی جان محترم ہے انسانی خون گرانا گناہ کبیرہ ہے اور ایک جان کو قتل کرنا پورے نوع انسانی کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ انسانی جان کے حرمت پر حدیث میں اتنا زور دیا گیا ہے کہ حدیث کی کتابوں میں اس عنوان کے تحت خصوصی ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ امام نسائی نے ایک حدیث نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے اور پہلی چیز جس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان سنایا جائے گا وہ خون کے دعوے ہیں۔ قرآن و حدیث میں جہاں قتل نفس یعنی انسان کو قتل کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے وہاں الا بالحق کہہ کر استثنیٰ بھی دیا گیا ہے، یہ نہیں کہا گیا کہ کسی جان کو کسی حال میں قتل نہ کرو یہ تو انسان کو قانون کی پکڑ سے آزاد کر دینا ہوتا کہ اسے کھلی چھوٹ دے دی جائے کہ جتنا چاہے فساد کرے جتنا چاہے بدامنی پھیلاے جس قدر چاہے ظلم و ستم کرے پھر بھی اس کی جان محترم ہی رہے گی۔ اصل ضرورت یہ تھی کہ دنیا میں امن قائم کیا جائے، فتنہ و فساد کا بیج مٹا دیا جائے اور ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت ہر انسان اپنی حدود میں آزاد ہو اور کوئی شخص ایک مقرر کردہ حد سے تجاوز کر کے دوسرے کے دنیاوی اور روحانی امن میں خلل نہ پیدا کر سکے۔ مادہ پرست انسان اپنی خواہشات نفس کا غلام ہوتا ہے وہ کس قسم کے حدود کا پابند نہیں ہوتا اس کے نزدیک ہر وہ کام جائز بلکہ فرض ہے جس سے اس کو نفع حاصل ہو اور اس کی تسلی کا سامان پیدا ہو سکے کسی انسان کے حقوق کا تصور بھی ان کے ہاں محال ہوتا ہے ایسے ہی افراد اور حکمران معاشرے میں اللہ کی زمین پر فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں انسانیت کو اس ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے اللہ کی زمین کو فساد اور خرابی سے پاک کرنے کے لیے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد زبان اور قلم سے بھی کیا جاتا ہے اور تلوار و قوت سے بھی۔ تلوار کے ساتھ کیا جانے والا جہاد قتال کہلاتا ہے۔ جہاد کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حدیث کے مجموعوں میں بڑا حصہ کتاب الجہاد پر مشتمل ہے اور نبی اکرمؐ اور صحابہ کرام کی زندگیاں جہاد کی تصور کی تصاویر بناتی ہیں۔

بیان ہے کہ یہاں ایک رات یا ایک صبح کا صرف کرنا ہزار رات کی عبادت سے (نفلی بہتر) ہے یہاں جاگنے والی آنکھ پر دوزخ کی آگ حرام کر دی گئی ہے اور اس راہ میں قدم اٹھانے والوں کے غبار آلود پاؤں کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں کبھی دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی ان کی محنت کو حاجیوں کی خدمت اور خانہ کعبہ کی تعمیر سے افضل قرار دیا گیا ان کی تجارت کو نفع بخش اور عذاب علیم سے چھٹکارے کا ذریعہ بتایا گیا۔ جہاد سے نہ دنیا اور اس کی دولت مطلوب ہوتی ہے، نہ بہادری اور شجاعت کے جھنڈے گاڑنے کی نیت ہوتی ہے، نہ ملک اور اراضی کی فتوحات مقصود ہوتی ہیں پھر اس خوریزی کا کیا مقصد ہے؟ علامہ اقبال ان الفاظ میں اس کا جواب دیتے ہیں

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

پھر بھی دل میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر جہاد کا مقصد دنیا کی دولت اور ملک گیری نہیں ہے تو اس خونریزی سے اللہ کو کیا ملتا ہے کہ اس نے اس کے عوض اتنے بڑے بڑے درجے دے رکھے ہیں اس پرخطر کام میں آخر رکھا کیا ہے؟ اس بھاگ دوڑ سے گرد آلود ہونے والے قدموں کو اللہ نے کامیاب قرار دیا ہے، اس خشک اور بے مزہ جنگ میں لڑنے والوں کو بار بار کامیاب کہا جا رہا ہے۔ اس کا جواب اللہ قرآن میں دیتا ہے کہ اللہ نہیں چاہتا کہ اس کی زمین پر فتنہ و فساد پھیلایا جائے اسے یہ گوارا نہیں ہے کہ اس کے بندوں کو بے قصور ستایا جائے اور تباہ برباد کیا جائے اسے یہ پسند نہیں ہے کہ طاقتور کمزوروں کو کھا جائے ان کے امن و چین پر ڈاکے ڈالے جائیں ان کی اخلاقی، روحانی اور مادی زندگی کو ہلاکت میں مبتلا کیا جائے۔ اسے یہ منظور نہیں ہے کہ دنیا میں سیاہ کاری، بدامنی ظلم اور بے انصافی اور قتل و غارت گری قائم رہے وہ پسند نہیں کرتا کہ جو خاص اس کے بندے ہیں اس کو مخلوق کا بندہ بنا کر اس کی انسانی شرافت پر ذلت کا داغ لگایا جائے لہٰذا جو گروہ بغیر کسی معاوضے کی خواہش کے، بغیر کسی دولت کی لالچ، بغیر کسی ذاتی نفع کی تمنا کے صرف خدا کی خاطر دنیا کو اس فتنے سے پاک کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے اور اس نیک کام میں اپنی جان و مال اپنی تجارت کے فوائد اپنے بال بچے اپنے بھائی اور باپ کی محبت اور اپنے گھر بار کے عیش و عام سب کو قربان کر دے اس سے زیادہ اللہ کی محبت اور اللہ کی رضامندی کا مستحق کون ہو سکتا ہے؟

دنیا میں ہر روز مختلف ملکوں قوموں اور قوتوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہتی ہیں اکثر یہ سوال اٹھتا رہتا ہے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ بعض اوقات تو آپ آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں حق پر ہے اور فلاں ناحق ہے مگر بعض دفعہ بلکہ اکثر اس سوال کا جواب خاصہ

مشکل ہو جاتا ہے، مولانا مودودی نے اس کے لیے ایک معیار ہمارے سامنے پیش کیا وہ کہتے ہیں ایسی جنگ کو جو ظالموں اور مفسدوں کے مقابلے میں اپنی مدافعت اور کمزوروں بے بسوں اور مظلوموں کی مدد کے لیے کی جائے اللہ نے اسے خاص راہ خدا کی جنگ قرار دیا ہے یہ جنگ بندوں کے لیے نہیں بلکہ خدا کے لیے ہے اور بندوں کے غرض کے لیے نہیں بلکہ خاص خدا کی خوشنودی کے لیے ہے اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک خدا کے بے گناہ بندوں پر دست دارازی اور ظلم کا سلسلہ بند نہ ہو جائے فرمایا ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اسلامی تاریخ میں نبی اکرمؐ کا مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آنا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ اسلامی کیلنڈر ہجرت کے واقعے کو بنیاد بنا کر تیار کیا گیا ہے، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہجرت نبی کے بعد اسلام کمزور اور ضعف کے دور سے نکل کر قوت و شوکت کے دور میں داخل ہو گیا تھا اب ریاست بھی اس کی اپنی تھی اور حکمرانی بھی اپنی تھی۔

رسول اللہؐ نے مدینہ پہنچ کر انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مدینہ کی پوری آبادی کو ایک معاہدے کے ذریعے متحد کرنے کی کوشش کی اس معاہدے میں مدینے کے یہودی اور مشرکین بھی شامل تھے اور اس معاہدے کو تاریخ میں میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ قریش چونکہ ہر قیمت پر فتنہ و فساد پھیلانا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے ساری روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مکہ کے حرم کے اندر بھی اللہ کے مہمانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ قبیلے اوس کے سردار سیدنا سعد عمرے کے لیے مکہ گئے تو حرم کے دروازے پر ابوجہل نے ان کو روکا اور بڑی رعونت سے کہا تم ہمارے دشمنوں کو اپنے ہاں پناہ دیتے ہو اور پھر یہاں اطمینان کے ساتھ عمرہ کرتے ہو خدا کی قسم اگر تم ابو سفیان امیہ بن خلف کے مہمان نہ ہوتے تو اپنے اہل و عیال کے پاس زندہ سلامت نہ پہنچ سکتے سیدنا سعد بن اوس کوئی معمولی انسان نہ تھے انہوں نے ترکی بترکی جواب دیا بخدا اگر تمہارے یہ ارادے ہیں تو جان لو کہ حرم میں اپنے داخلے پر پابندی کے نتیجے میں میں تمہارے اوپر اس چیز کی پابندی لگا دوں گا جس کو تم شدت سے محسوس کرو گے یعنی مدینے سے گزرنے والی تمہاری شاہراہ تجارت بند کر دوں گا۔ قریش کے ارادوں سے رسول اللہؐ واقف رہتے تھے ہمیشہ حالات کا نظر رکھتے اور دشمن کے عزائم سے کبھی غافل نہ رہے تھے آپؐ نے کبھی کسی پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ ذہنی طور پر ہر وقت تیار رہتے تھے وہ دشمن تک یہ بات بھی پہنچاتے رہتے تھے کہ مسلمان نہ تو غافل ہیں کہ کوئی ان پر اچانک چڑھ دوڑے، نہ مٹی کے مادھو ہیں کہ دشمن کا مقابلہ کرنے کی سکت اور صلاحیت نہیں رکھتے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرنے کے لیے فتنہ و فساد دیا گیا ہے کے درمیان قرار دیا نہیں ہے ہوتا ہے اللہ کی اللہ کے ہے کہ ا خدا کی ہے اور اور اس ہیں کہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف