شریف خاندان: کوئی ایوان اقتدار سے باہر رہ نہ جائے!
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اخباری اطلاعات کے مطابق ملک کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے بڑے صاحبزادے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد، علی مصطفی ڈار باقاعدہ طور پر سیاست میں داخل ہو گئے ہیں۔ انہیں پنجاب میں صوبائی وزیر کا درجہ دے دیا گیا ہے، جس کے تحت وہ صوبائی اسمبلی میں بیٹھنے اور ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کا اختیار رکھیں گے۔ علی مصطفی ڈار، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی چھوٹی اور اکلوتی بہن عاصمہ کے شوہر ہیں، جو دبئی میں مقیم ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے علی ڈار کو ’مصنوعی ذہانت‘ اور ’خصوصی اقدامات کا مشیر مقرر کیا ہے‘ اور اس مقصد کے لیے ایک نیا محکمہ بھی قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد صوبے میں جدت پسندی، ٹیکنالوجی کا فروغ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے وابستہ منصوبے ہوں گے۔ یہ تقرر فوری طور پر نافذ العمل ہے، اپنے نئے کردار میں علی ڈار مستقبل کے ایسے منصوبوں کی تیاری اور نفاذ پر توجہ مرکوز کریں گے جن کا مقصد گورننس میں بہتری، روز گار کے مواقع پیدا کرنا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور AI کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ ایچی سن کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سن 2000ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے تھے۔ بین الاقوامی سطح پر دو دہائیوں سے زائد کام کرنے کے بعد، علی ڈار 2024ء کے انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کے بعد سے پاکستان کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پردے کے پیچھے ان کے کردار میں اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی ملاقاتوں میں سہولت کاری اور ٹیک ورئیل اسٹیٹ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم کاروباری شخصیات کو پاکستان کا دورہ کرنے اور سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کرنا شامل ہے۔ شریف خاندان کے موجودہ سربراہ میاں محمد نواز شریف تین بار ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ با اختیار اور فیصلہ ساز قوتوں کے عدم اتفاق کے سبب وہ چوتھی بار ملک کے وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے تاہم وہ اس وقت ملک کی برسراقتدار پارٹی مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں اور ان کے برادر خورد محمد شہباز شریف وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں جب کہ ان کے سمدھی محمد اسحق ڈار نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی اہم ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف ملک کے سب سے بڑے صوبے کی انتہائی با اختیار وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کے بھتیجے اور شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز رکن اسمبلی ہیں اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ قبل ازیں ان کے تیسرے بھائی عباس شریف مرحوم، ان کی اہلیہ کلثوم نواز مرحومہ اور ان کی والدہ مرحومہ بھی مختلف مواقع پر اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔ ان نہایت قریبی اور ایک ہی گھر کے افراد کے علاوہ بھی ان کے داماد، بھانجے، کزن اور دیگر رشتے دار مختلف سرکاری مناصب اور اسمبلیوں کی رکنیت سے سرفراز ہو چکے ہیں آج بھی مختلف اداروں اور سرکاری محکموں کا تحقیقی جائزہ لیا جائے تو شریف خاندان کے دور و نزدیک کے قرابت دار خاصی بڑی تعداد میں مختلف عنوانات کے تحت سرکاری مراعات سے استفادہ کرتے پائے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ حکومت جمہوری ہے تو بادشاہت کسے کہتے ہیں؟؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر اعلی نواز شریف ملک کے
پڑھیں:
لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
پنجاب میں بارشوں کے بعد لاہور کے ڈی ایچ اے میں بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا۔ رابی پیرزادہ نے بھی اپنے گھر کے قریب کھڑے پانی کی ویڈیو بناتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے شکوہ کر ڈالا۔
رابی پیرزادہ نے اپنے فیس بک پیج پر بارش کے بعد کھڑے ہوئے پانی کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس کا کیپشن ’’بارش کے بعد لاہور کی صورت حال اور مریم نواز کا ستھرا پنجاب‘‘ دیا ہے۔ اور ویڈیو پر لکھا ہے ’’مریم نواز صاحبہ، دیکھیں لاہور کے ساتھ کیا ہورہا ہے‘‘۔
رابی پیرزادہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’مریم نواز صاحبہ! یہ میں اپنے گھر میں کھڑی ہوں، جو کہ لاہور کے مہنگے ترین علاقے میں آتا ہے، یہ ڈی ایچ اے فیز ون ہے۔ میرے آفس ، میرے اسکول کے اندر بہت نقصان ہوا ہے۔ وہ شعیب صاحب جن سے آپ ساری انفارمیشن لیتی ہیں وہ پتا نہیں کس علاقے میں رہتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کا حال بہت خراب ہے۔ مجھے نہیں پتا وہ 960 گاڑیاں کہاں کام کررہی ہیں۔‘‘
https://www.facebook.com/RabiPirzadaMusic/videos/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D8%AA%DA%BE%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8lahore-rain-suthrapunj/1344354571218376/رابی پیرزادہ نے بارش کے بعد علاقے کی زبوں حالی کا شکوہ کیا۔ بعد ازاں ویڈیو کے کمنٹس میں لکھا ’’یہ ویڈیو ڈی ایچ اے میں ضرور ریکارڈ ہوئی ہے، مگر بارش کے بعد تقریباً پورے لاہور کا یہی حال ہے۔ اس ویڈیو کا مقصد کسی مخصوص علاقے یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ اربابِ اختیار تک عوام کی مشکلات پہنچانا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔‘‘
رابی پیرزادہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تاہم کئی صارفین نے کمنٹ کیا کہ شدید بارش کے بعد پانی کا کھڑا ہونا عام بات ہے، جو کہ فوری نہیں نکالا جاسکتا۔ لیکن چند گھنٹوں بعد پانی کی نکاسی کردی گئی۔