Jasarat News:
2026-06-02@23:14:01 GMT

12فروری: بنگال کی تاریخ کا نیا ورق

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بنگلا دیش کے انتخابات کو محض ایک ’’معمول کا الیکشن‘‘ سمجھنا زمینی حقائق سے لاعلمی کے مترادف ہوگا۔ 12 فروری کو ڈالے جانے والے ووٹ کسی ایک جماعت یا حکومت کا فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ یہ برسوں کی گھٹن، خوف، بدعنوانی، خاموش جبر اور اجتماعی بے بسی کا اجتماعی جواب ہوں گے۔ یہ وہ دن ہے جب بنگال کی سرزمین ایک بار پھر یہ طے کرے گی کہ اقتدار طاقت کے زور پر چلے گا یا عوامی اعتماد سے، موروثیت کے سہارے یا کردار اور اہلیت کی بنیاد پر، مفاد کے تابع یا اصولوں کے تابع۔ انتخابات میں اب محض ایک دن باقی ہے، مگر بنگلا دیش کا سیاسی منظرنامہ روز بروز زیادہ واضح اور دو ٹوک ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین قومی اور بین الاقوامی سرویز اس حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جماعت اسلامی بنگلا دیش اب محض ایک انتخابی جماعت نہیں رہی بلکہ ایک سیاسی متبادل کے طور پر ابھری ہے۔ Projection BD, Jagran Foundation اور NarratiV کے مشترکہ سروے کے مطابق اگرچہ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کو معمولی عددی برتری حاصل ہے، مگر جماعت اسلامی اور اس کے اتحادی مجموعی ووٹ بینک کے اعتبار سے واضح سبقت رکھتے ہیں۔ 17 فی صد غیر فیصلہ شدہ ووٹرز اس انتخاب کو مکمل طور پر کھلا اور غیر یقینی مقابلہ بنا رہے ہیں اور یہی طبقہ حتمی فیصلہ کن قوت بننے جا رہا ہے۔ اسی دوران International Republican Institute (IRI) کے سروے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں 53 فی صد ووٹرز نے جماعت اسلامی کو اپنی پسندیدہ جماعت قرار دیا۔ یہ اعداد و شمار محض شماریاتی مشق نہیں بلکہ اس گہری عوامی تبدیلی کا اظہار ہیں جو بنگلا دیشی سماج میں جنم لے چکی ہے۔ عوام اب ترقی کے نعروں، بلند و بانگ دعووں اور رنگین منصوبوں سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کون زیادہ سڑکیں بنائے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون لوٹے گا نہیں، کون جھوٹ نہیں بولے گا، اور کون اقتدار کو امانت سمجھے گا۔

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ اس کے پیچھے ایک طویل اور تلخ سیاسی تاریخ ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں طاقت کو چند ہاتھوں میں مرکوز رکھا گیا، اداروں کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا، انتخابات کو رسمی کارروائی میں بدل دیا گیا، اور قومی دولت کی بے مثال لوٹ مار کی گئی۔ بنگلا دیش کے بینکوں، بیمہ اور مالیاتی اداروں سے 28 لاکھ کروڑ ٹکا کا بیرونِ ملک منتقل ہونا محض معاشی بدعنوانی نہیں بلکہ ایک اخلاقی سانحہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بنگلا دیشی ووٹر بنیادی سوال اٹھا رہا ہے: ہمیں استحکام تو ملا، مگر کیا ہمیں انصاف، عزت اور آواز بھی ملی؟ اسی سوال نے جماعت اسلامی کے ’’کلین امیج‘‘ کو غیر معمولی تقویت دی ہے۔ جماعت نہ اقتدار میں رہی کہ بدعنوانی کے داغ لگتے، نہ اس نے اپوزیشن میں رہ کر انتقام اور نفرت کی سیاست کی۔ اس نے ظلم سہا، مگر عوامی خدمت کا راستہ نہیں چھوڑا۔ قدرتی آفات ہوں، سیلاب ہوں، ریاستی ناکامیاں ہوں یا سماجی بحران جماعت اسلامی اکثر حکومت سے پہلے عوام کے درمیان موجود رہی۔ یہی خاموش، مستقل اور بے لوث خدمت آج ووٹ میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

عوامی لیگ کی انتخابی دوڑ سے غیر موجودگی نے بنگلا دیشی سیاست کی اصل حقیقت کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ Communication and Research Foundation (CRF) اور Bangladesh Election and Public Opinion Studies کے مطابق عوامی لیگ کے سابق ووٹرز بڑی تعداد میں بی این پی اور جماعت اسلامی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ بکھراؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ ووٹر اب کسی ’’تاریخی جواز‘‘ یا خوف کی بنیاد پر یرغمال بننے کو تیار نہیں۔ وہ اپنا فیصلہ خود کرنا چاہتا ہے۔

اس پس منظر میں بی این پی کی ایک بڑی سیاسی لغزش بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ نوجوان نسل کو متاثر کرنے کے لیے موروثی سیاست کا سہارا لینا طارق رحمن کی بیٹی کو آگے لانا Gen Z کے لیے ناقابل ِ قبول ثابت ہوا۔ آج کا نوجوان خاندانی نام نہیں، نظام کی تبدیلی چاہتا ہے۔ وہ سیاست میں وراثت نہیں بلکہ شفافیت، میرٹ اور جواب دہی دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو خود بی این پی کے اندر بھی ایک ’’میگا پولیٹیکل مسٹیک‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی نوجوان طبقہ چند ماہ قبل طلبہ سیاست میں اپنا فیصلہ سنا چکا ہے۔ اسلامی شبر کی کامیابیاں محض کیمپس تک محدود نہیں رہیں بلکہ قومی سیاست کے لیے واضح پیغام بن گئیں۔ ڈھاکا، چٹاگانگ، راج شاہی اور دیگر جامعات میں یہ فتح اس بات کا اعلان تھی کہ منظم، نظریاتی اور صبر آزما جدوجہد آخرکار نتیجہ دیتی ہے۔ آج وہی رجحان قومی سطح پر بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی منظرنامہ بھی اس تبدیلی سے بے خبر نہیں۔ برطانیہ، فرانس، امریکا اور چین کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں کی جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ عالمی طاقتیں بھی بنگلا دیش کے بدلتے سیاسی توازن کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں۔ تاہم اصل فیصلہ نہ سفارتی کمروں میں ہوگا، نہ بیرونی بیانات میں بلکہ عوام کی پرچی میں ہوگا۔ یقینا جماعت اسلامی کے لیے راستہ آسان نہیں۔ مقامی بیوروکریسی، پرانا اسٹیٹس کو، بھارتی لابی اور عوامی لیگ کی باقیات اسے اقتدار سے دور رکھنے کے لیے متحرک ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب عوامی رجحان کسی سمت مضبوطی سے چل پڑے تو رکاوٹیں دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔

آنے والی پارلیمنٹ غالباً منقسم ہوگی بی این پی سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ سکتی ہے، جماعت اسلامی ایک مضبوط نظریاتی قوت کے طور پر ابھرے گی، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) اور آزاد ارکان توازن کا کردار ادا کریں گے۔ ایسے منظرنامے میں جماعت اسلامی کی حیثیت محض عددی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہوگی۔ قانون سازی ہو، احتساب ہو یا خارجہ پالیسی یہ سیاست اب تعداد سے زیادہ اثر کی سیاست بنتی جا رہی ہے۔ یہ الیکشن دراصل ایک فکری ریفرنڈم ہے۔ ایک طرف وہ سیاست ہے جو بیرونی سرپرستی، اسٹیبلشمنٹ اور طاقت کے سہارے چلتی ہے، اور دوسری طرف وہ سیاست جو تنظیم، اخلاق، عوامی رابطے اور اللہ پر توکل سے قوت حاصل کرتی ہے۔ جماعت اسلامی اسی توازن کی علامت ہے اسباب پر بھی یقین، اور ربِّ اسباب پر بھی۔

پاکستانی قاری کے لیے بھی یہ لمحہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بی این پی کی نسبتاً مثبت سوچ، جماعت اسلامی کا فکری و تہذیبی رشتہ، اور نوجوانوں کی نئی سیاسی آواز یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بنا رہے ہیں جس میں پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں بھی نئی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ فروری محض ایک تاریخ نہیں، یہ بنگلا دیش کی سیاسی اخلاقیات کا امتحان ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ووٹ صرف کاغذ پر مہر نہیں ہوگا بلکہ ضمیر کی گواہی ہوگا۔ یہ دن طے کرے گا کہ عوام خوف کے سائے میں جئیں گے یا اختیار کے احساس کے ساتھ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب خاموش اکثریت بولتی ہے تو محض حکومتیں نہیں بدلتیں، قومی سمتیں بدل جاتی ہیں۔ اسی لیے 12 فروری کو ہر ووٹ ایک سوال بھی ہے اور ایک جواب بھی ہم کیسا بنگلا دیش چاہتے ہیں؟ ایسے میں جماعت اسلامی کا کردار محض حکومت سازی تک محدود نہیں۔ اگر وہ اقتدار میں آئے یا اپوزیشن میں بیٹھے، اس کی موجودگی آنے والی پارلیمنٹ کو اخلاقی وزن دے گی۔ احتساب، شفاف قانون سازی، عدلیہ کی آزادی اور عوامی حقوق یہ سب وہ محاذ ہیں جہاں جماعت اسلامی فیصلہ کن آواز بن سکتی ہے۔ یہ سیاست تعداد کی نہیں، کردار کی سیاست ہوگی، اور یہی اس انتخاب کا اصل حاصل ہو سکتا ہے۔ 12 فروری محض یہ طے نہیں کرے گا کہ حکومت کون بنائے گا، بلکہ یہ فیصلہ کرے گا کہ آنے والی پارلیمنٹ میں کس کی بات وزن رکھے گی۔ جب دبائی گئی آوازیں ووٹ میں بدلتی ہیں تو صرف حکومتیں نہیں قوموں کی سمت بدلتی ہے۔ مسلم بنگال کوئی نیا خواب نہیں؛ یہ ایک دبائی گئی حقیقت ہے جو اب دوبارہ سانس لے رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے: جو خون نظریے کے لیے بہتا ہے، وہ کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش کے نہیں بلکہ جا رہا ہے بی این پی رہے ہیں محض ایک کے لیے

پڑھیں:

اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان

تصویر، فیس بک

اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) نے مالی سال 26-2025 کی ادائیگیوں کے کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان کردیا۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق تمام ڈرائینگ اور ڈسبرسنگ آفیسرز کو حالیہ کلیمز 12 جون تک جمع کرانا ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء تک جاری کردہ ٹوکنز پر تمام غیرمنظور شدہ بلوں کو دوبارہ جمع کرانے کی تاریخ 15 جون ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق اے جی پی آر اسلام آباد اور ذیلی دفاتر کےاسائنمنٹ اکاؤنٹس کےلیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون ہوگی۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء کے بعد اعزازیہ کا کوئی کلیم قبول نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہ کے چیک رواں مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد ہوجائیں گے۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 30 جون 2026ء کے بعد موجودہ مالی سال کےلیے کوئی متبادل چیک جاری نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا