Jasarat News:
2026-06-02@23:31:02 GMT

جہاد اور جنگ میں فرق

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جنگ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کی۔ قرآن مجید میں اللہ پاک نے آدمؑ کے دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا تھا انسانی تاریخ میں یہ پہلا قتل تھا اس کے بعد انسانوں کے درمیان جنگ و جدال کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جنگ عموماً اپنی قوت و بڑائی کا سکہ منوانے لوگوں کی گردنیں اپنے سامنے جھکوانے مال و زر اور کشور کشائی کے لیے لڑی جاتی ہیں ان جذبات اور مقاصد کے لیے لڑی جانے والی جنگوں نے انسان کو ذلت اور رسوائی اور زمین کو فتنہ و فساد کے سوا کچھ نہ دیا۔ جنگوں کے بارے میں ملکہ سبا کی زبانی قرآن میں جو نقشہ پیش کیا گیا ہے سورہ نمل میں فرمایا کہ: ملکہ نے کہا بادشاہ جب کسی ملک میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کرتے ہیں یہی کچھ وہ کرتے ہیں۔ جو جنگ زمین میں کسی فرد یا قوم کی بالادستی کے بجائے اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور اس کے حاکمیت قائم کرنے کے لیے لڑی جائے اس سے یقینا فتنہ و فساد ختم ہوتا ہے اور اصلاح کا راستہ کھلتا ہے۔ اللہ کے انبیاء میں سے جن انبیاء نے جنگیں لڑیں ان کے پیش نظر حق و انصاف کا قیام اور مساوات انسانی اور اصلاح کا حصول ہی ہوتا تھا نہ کہ وہ انسانوں کی گردنیں اپنے ذات کے سامنے جھکانے کے علمبردار تھے نہ ہی ان کا مقصد ایک قوم کو دوسری قوم پر مسلط کرنا تھا، اللہ کے حکمرانی ہی سے سب کا بھلا ہوتا ہے بقول حکیم الامت علامہ محمد اقبال

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بُتانِ آزری

اللہ کے نزدیک انسانی جان محترم ہے انسانی خون گرانا گناہ کبیرہ ہے اور ایک جان کو قتل کرنا پورے نوع انسانی کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ انسانی جان کے حرمت پر حدیث میں اتنا زور دیا گیا ہے کہ حدیث کی کتابوں میں اس عنوان کے تحت خصوصی ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ امام نسائی نے ایک حدیث نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے اور پہلی چیز جس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان سنایا جائے گا وہ خون کے دعوے ہیں۔ قرآن و حدیث میں جہاں قتل نفس یعنی انسان کو قتل کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے وہاں الا بالحق کہہ کر استثنیٰ بھی دیا گیا ہے، یہ نہیں کہا گیا کہ کسی جان کو کسی حال میں قتل نہ کرو یہ تو انسان کو قانون کی پکڑ سے آزاد کر دینا ہوتا کہ اسے کھلی چھوٹ دے دی جائے کہ جتنا چاہے فساد کرے جتنا چاہے بدامنی پھیلاے جس قدر چاہے ظلم و ستم کرے پھر بھی اس کی جان محترم ہی رہے گی۔ اصل ضرورت یہ تھی کہ دنیا میں امن قائم کیا جائے، فتنہ و فساد کا بیج مٹا دیا جائے اور ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت ہر انسان اپنی حدود میں آزاد ہو اور کوئی شخص ایک مقرر کردہ حد سے تجاوز کر کے دوسرے کے دنیاوی اور روحانی امن میں خلل نہ پیدا کر سکے۔ مادہ پرست انسان اپنی خواہشات نفس کا غلام ہوتا ہے وہ کس قسم کے حدود کا پابند نہیں ہوتا اس کے نزدیک ہر وہ کام جائز بلکہ فرض ہے جس سے اس کو نفع حاصل ہو اور اس کی تسلی کا سامان پیدا ہو سکے کسی انسان کے حقوق کا تصور بھی ان کے ہاں محال ہوتا ہے ایسے ہی افراد اور حکمران معاشرے میں اللہ کی زمین پر فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں انسانیت کو اس ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے اللہ کی زمین کو فساد اور خرابی سے پاک کرنے کے لیے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد زبان اور قلم سے بھی کیا جاتا ہے اور تلوار و قوت سے بھی۔ تلوار کے ساتھ کیا جانے والا جہاد قتال کہلاتا ہے۔ جہاد کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حدیث کے مجموعوں میں بڑا حصہ کتاب الجہاد پر مشتمل ہے اور نبی اکرمؐ اور صحابہ کرام کی زندگیاں جہاد کی تصور کی تصاویر بناتی ہیں۔

بیان ہے کہ یہاں ایک رات یا ایک صبح کا صرف کرنا ہزار رات کی عبادت سے (نفلی بہتر) ہے یہاں جاگنے والی آنکھ پر دوزخ کی آگ حرام کر دی گئی ہے اور اس راہ میں قدم اٹھانے والوں کے غبار آلود پاؤں کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں کبھی دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی ان کی محنت کو حاجیوں کی خدمت اور خانہ کعبہ کی تعمیر سے افضل قرار دیا گیا ان کی تجارت کو نفع بخش اور عذاب علیم سے چھٹکارے کا ذریعہ بتایا گیا۔ جہاد سے نہ دنیا اور اس کی دولت مطلوب ہوتی ہے، نہ بہادری اور شجاعت کے جھنڈے گاڑنے کی نیت ہوتی ہے، نہ ملک اور اراضی کی فتوحات مقصود ہوتی ہیں پھر اس خوریزی کا کیا مقصد ہے؟ علامہ اقبال ان الفاظ میں اس کا جواب دیتے ہیں

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

پھر بھی دل میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر جہاد کا مقصد دنیا کی دولت اور ملک گیری نہیں ہے تو اس خونریزی سے اللہ کو کیا ملتا ہے کہ اس نے اس کے عوض اتنے بڑے بڑے درجے دے رکھے ہیں اس پرخطر کام میں آخر رکھا کیا ہے؟ اس بھاگ دوڑ سے گرد آلود ہونے والے قدموں کو اللہ نے کامیاب قرار دیا ہے، اس خشک اور بے مزہ جنگ میں لڑنے والوں کو بار بار کامیاب کہا جا رہا ہے۔ اس کا جواب اللہ قرآن میں دیتا ہے کہ اللہ نہیں چاہتا کہ اس کی زمین پر فتنہ و فساد پھیلایا جائے اسے یہ گوارا نہیں ہے کہ اس کے بندوں کو بے قصور ستایا جائے اور تباہ برباد کیا جائے اسے یہ پسند نہیں ہے کہ طاقتور کمزوروں کو کھا جائے ان کے امن و چین پر ڈاکے ڈالے جائیں ان کی اخلاقی، روحانی اور مادی زندگی کو ہلاکت میں مبتلا کیا جائے۔ اسے یہ منظور نہیں ہے کہ دنیا میں سیاہ کاری، بدامنی ظلم اور بے انصافی اور قتل و غارت گری قائم رہے وہ پسند نہیں کرتا کہ جو خاص اس کے بندے ہیں اس کو مخلوق کا بندہ بنا کر اس کی انسانی شرافت پر ذلت کا داغ لگایا جائے لہٰذا جو گروہ بغیر کسی معاوضے کی خواہش کے، بغیر کسی دولت کی لالچ، بغیر کسی ذاتی نفع کی تمنا کے صرف خدا کی خاطر دنیا کو اس فتنے سے پاک کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے اور اس نیک کام میں اپنی جان و مال اپنی تجارت کے فوائد اپنے بال بچے اپنے بھائی اور باپ کی محبت اور اپنے گھر بار کے عیش و عام سب کو قربان کر دے اس سے زیادہ اللہ کی محبت اور اللہ کی رضامندی کا مستحق کون ہو سکتا ہے؟

دنیا میں ہر روز مختلف ملکوں قوموں اور قوتوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہتی ہیں اکثر یہ سوال اٹھتا رہتا ہے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ بعض اوقات تو آپ آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں حق پر ہے اور فلاں ناحق ہے مگر بعض دفعہ بلکہ اکثر اس سوال کا جواب خاصہ

مشکل ہو جاتا ہے، مولانا مودودی نے اس کے لیے ایک معیار ہمارے سامنے پیش کیا وہ کہتے ہیں ایسی جنگ کو جو ظالموں اور مفسدوں کے مقابلے میں اپنی مدافعت اور کمزوروں بے بسوں اور مظلوموں کی مدد کے لیے کی جائے اللہ نے اسے خاص راہ خدا کی جنگ قرار دیا ہے یہ جنگ بندوں کے لیے نہیں بلکہ خدا کے لیے ہے اور بندوں کے غرض کے لیے نہیں بلکہ خاص خدا کی خوشنودی کے لیے ہے اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک خدا کے بے گناہ بندوں پر دست دارازی اور ظلم کا سلسلہ بند نہ ہو جائے فرمایا ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اسلامی تاریخ میں نبی اکرمؐ کا مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آنا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ اسلامی کیلنڈر ہجرت کے واقعے کو بنیاد بنا کر تیار کیا گیا ہے، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہجرت نبی کے بعد اسلام کمزور اور ضعف کے دور سے نکل کر قوت و شوکت کے دور میں داخل ہو گیا تھا اب ریاست بھی اس کی اپنی تھی اور حکمرانی بھی اپنی تھی۔

رسول اللہؐ نے مدینہ پہنچ کر انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مدینہ کی پوری آبادی کو ایک معاہدے کے ذریعے متحد کرنے کی کوشش کی اس معاہدے میں مدینے کے یہودی اور مشرکین بھی شامل تھے اور اس معاہدے کو تاریخ میں میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ قریش چونکہ ہر قیمت پر فتنہ و فساد پھیلانا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے ساری روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مکہ کے حرم کے اندر بھی اللہ کے مہمانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ قبیلے اوس کے سردار سیدنا سعد عمرے کے لیے مکہ گئے تو حرم کے دروازے پر ابوجہل نے ان کو روکا اور بڑی رعونت سے کہا تم ہمارے دشمنوں کو اپنے ہاں پناہ دیتے ہو اور پھر یہاں اطمینان کے ساتھ عمرہ کرتے ہو خدا کی قسم اگر تم ابو سفیان امیہ بن خلف کے مہمان نہ ہوتے تو اپنے اہل و عیال کے پاس زندہ سلامت نہ پہنچ سکتے سیدنا سعد بن اوس کوئی معمولی انسان نہ تھے انہوں نے ترکی بترکی جواب دیا بخدا اگر تمہارے یہ ارادے ہیں تو جان لو کہ حرم میں اپنے داخلے پر پابندی کے نتیجے میں میں تمہارے اوپر اس چیز کی پابندی لگا دوں گا جس کو تم شدت سے محسوس کرو گے یعنی مدینے سے گزرنے والی تمہاری شاہراہ تجارت بند کر دوں گا۔ قریش کے ارادوں سے رسول اللہؐ واقف رہتے تھے ہمیشہ حالات کا نظر رکھتے اور دشمن کے عزائم سے کبھی غافل نہ رہے تھے آپؐ نے کبھی کسی پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ ذہنی طور پر ہر وقت تیار رہتے تھے وہ دشمن تک یہ بات بھی پہنچاتے رہتے تھے کہ مسلمان نہ تو غافل ہیں کہ کوئی ان پر اچانک چڑھ دوڑے، نہ مٹی کے مادھو ہیں کہ دشمن کا مقابلہ کرنے کی سکت اور صلاحیت نہیں رکھتے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرنے کے لیے فتنہ و فساد دیا گیا ہے کے درمیان قرار دیا نہیں ہے ہوتا ہے اللہ کی اللہ کے ہے کہ ا خدا کی ہے اور اور اس ہیں کہ

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا