data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنگ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کی۔ قرآن مجید میں اللہ پاک نے آدمؑ کے دو بیٹوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا تھا انسانی تاریخ میں یہ پہلا قتل تھا اس کے بعد انسانوں کے درمیان جنگ و جدال کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جنگ عموماً اپنی قوت و بڑائی کا سکہ منوانے لوگوں کی گردنیں اپنے سامنے جھکوانے مال و زر اور کشور کشائی کے لیے لڑی جاتی ہیں ان جذبات اور مقاصد کے لیے لڑی جانے والی جنگوں نے انسان کو ذلت اور رسوائی اور زمین کو فتنہ و فساد کے سوا کچھ نہ دیا۔ جنگوں کے بارے میں ملکہ سبا کی زبانی قرآن میں جو نقشہ پیش کیا گیا ہے سورہ نمل میں فرمایا کہ: ملکہ نے کہا بادشاہ جب کسی ملک میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کرتے ہیں یہی کچھ وہ کرتے ہیں۔ جو جنگ زمین میں کسی فرد یا قوم کی بالادستی کے بجائے اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور اس کے حاکمیت قائم کرنے کے لیے لڑی جائے اس سے یقینا فتنہ و فساد ختم ہوتا ہے اور اصلاح کا راستہ کھلتا ہے۔ اللہ کے انبیاء میں سے جن انبیاء نے جنگیں لڑیں ان کے پیش نظر حق و انصاف کا قیام اور مساوات انسانی اور اصلاح کا حصول ہی ہوتا تھا نہ کہ وہ انسانوں کی گردنیں اپنے ذات کے سامنے جھکانے کے علمبردار تھے نہ ہی ان کا مقصد ایک قوم کو دوسری قوم پر مسلط کرنا تھا، اللہ کے حکمرانی ہی سے سب کا بھلا ہوتا ہے بقول حکیم الامت علامہ محمد اقبال
سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بُتانِ آزری
اللہ کے نزدیک انسانی جان محترم ہے انسانی خون گرانا گناہ کبیرہ ہے اور ایک جان کو قتل کرنا پورے نوع انسانی کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ انسانی جان کے حرمت پر حدیث میں اتنا زور دیا گیا ہے کہ حدیث کی کتابوں میں اس عنوان کے تحت خصوصی ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ امام نسائی نے ایک حدیث نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے اور پہلی چیز جس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان سنایا جائے گا وہ خون کے دعوے ہیں۔ قرآن و حدیث میں جہاں قتل نفس یعنی انسان کو قتل کرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے وہاں الا بالحق کہہ کر استثنیٰ بھی دیا گیا ہے، یہ نہیں کہا گیا کہ کسی جان کو کسی حال میں قتل نہ کرو یہ تو انسان کو قانون کی پکڑ سے آزاد کر دینا ہوتا کہ اسے کھلی چھوٹ دے دی جائے کہ جتنا چاہے فساد کرے جتنا چاہے بدامنی پھیلاے جس قدر چاہے ظلم و ستم کرے پھر بھی اس کی جان محترم ہی رہے گی۔ اصل ضرورت یہ تھی کہ دنیا میں امن قائم کیا جائے، فتنہ و فساد کا بیج مٹا دیا جائے اور ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت ہر انسان اپنی حدود میں آزاد ہو اور کوئی شخص ایک مقرر کردہ حد سے تجاوز کر کے دوسرے کے دنیاوی اور روحانی امن میں خلل نہ پیدا کر سکے۔ مادہ پرست انسان اپنی خواہشات نفس کا غلام ہوتا ہے وہ کس قسم کے حدود کا پابند نہیں ہوتا اس کے نزدیک ہر وہ کام جائز بلکہ فرض ہے جس سے اس کو نفع حاصل ہو اور اس کی تسلی کا سامان پیدا ہو سکے کسی انسان کے حقوق کا تصور بھی ان کے ہاں محال ہوتا ہے ایسے ہی افراد اور حکمران معاشرے میں اللہ کی زمین پر فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں انسانیت کو اس ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے اللہ کی زمین کو فساد اور خرابی سے پاک کرنے کے لیے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد زبان اور قلم سے بھی کیا جاتا ہے اور تلوار و قوت سے بھی۔ تلوار کے ساتھ کیا جانے والا جہاد قتال کہلاتا ہے۔ جہاد کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حدیث کے مجموعوں میں بڑا حصہ کتاب الجہاد پر مشتمل ہے اور نبی اکرمؐ اور صحابہ کرام کی زندگیاں جہاد کی تصور کی تصاویر بناتی ہیں۔
بیان ہے کہ یہاں ایک رات یا ایک صبح کا صرف کرنا ہزار رات کی عبادت سے (نفلی بہتر) ہے یہاں جاگنے والی آنکھ پر دوزخ کی آگ حرام کر دی گئی ہے اور اس راہ میں قدم اٹھانے والوں کے غبار آلود پاؤں کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں کبھی دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی ان کی محنت کو حاجیوں کی خدمت اور خانہ کعبہ کی تعمیر سے افضل قرار دیا گیا ان کی تجارت کو نفع بخش اور عذاب علیم سے چھٹکارے کا ذریعہ بتایا گیا۔ جہاد سے نہ دنیا اور اس کی دولت مطلوب ہوتی ہے، نہ بہادری اور شجاعت کے جھنڈے گاڑنے کی نیت ہوتی ہے، نہ ملک اور اراضی کی فتوحات مقصود ہوتی ہیں پھر اس خوریزی کا کیا مقصد ہے؟ علامہ اقبال ان الفاظ میں اس کا جواب دیتے ہیں
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
پھر بھی دل میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر جہاد کا مقصد دنیا کی دولت اور ملک گیری نہیں ہے تو اس خونریزی سے اللہ کو کیا ملتا ہے کہ اس نے اس کے عوض اتنے بڑے بڑے درجے دے رکھے ہیں اس پرخطر کام میں آخر رکھا کیا ہے؟ اس بھاگ دوڑ سے گرد آلود ہونے والے قدموں کو اللہ نے کامیاب قرار دیا ہے، اس خشک اور بے مزہ جنگ میں لڑنے والوں کو بار بار کامیاب کہا جا رہا ہے۔ اس کا جواب اللہ قرآن میں دیتا ہے کہ اللہ نہیں چاہتا کہ اس کی زمین پر فتنہ و فساد پھیلایا جائے اسے یہ گوارا نہیں ہے کہ اس کے بندوں کو بے قصور ستایا جائے اور تباہ برباد کیا جائے اسے یہ پسند نہیں ہے کہ طاقتور کمزوروں کو کھا جائے ان کے امن و چین پر ڈاکے ڈالے جائیں ان کی اخلاقی، روحانی اور مادی زندگی کو ہلاکت میں مبتلا کیا جائے۔ اسے یہ منظور نہیں ہے کہ دنیا میں سیاہ کاری، بدامنی ظلم اور بے انصافی اور قتل و غارت گری قائم رہے وہ پسند نہیں کرتا کہ جو خاص اس کے بندے ہیں اس کو مخلوق کا بندہ بنا کر اس کی انسانی شرافت پر ذلت کا داغ لگایا جائے لہٰذا جو گروہ بغیر کسی معاوضے کی خواہش کے، بغیر کسی دولت کی لالچ، بغیر کسی ذاتی نفع کی تمنا کے صرف خدا کی خاطر دنیا کو اس فتنے سے پاک کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے اور اس نیک کام میں اپنی جان و مال اپنی تجارت کے فوائد اپنے بال بچے اپنے بھائی اور باپ کی محبت اور اپنے گھر بار کے عیش و عام سب کو قربان کر دے اس سے زیادہ اللہ کی محبت اور اللہ کی رضامندی کا مستحق کون ہو سکتا ہے؟
دنیا میں ہر روز مختلف ملکوں قوموں اور قوتوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہتی ہیں اکثر یہ سوال اٹھتا رہتا ہے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ بعض اوقات تو آپ آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں حق پر ہے اور فلاں ناحق ہے مگر بعض دفعہ بلکہ اکثر اس سوال کا جواب خاصہ
مشکل ہو جاتا ہے، مولانا مودودی نے اس کے لیے ایک معیار ہمارے سامنے پیش کیا وہ کہتے ہیں ایسی جنگ کو جو ظالموں اور مفسدوں کے مقابلے میں اپنی مدافعت اور کمزوروں بے بسوں اور مظلوموں کی مدد کے لیے کی جائے اللہ نے اسے خاص راہ خدا کی جنگ قرار دیا ہے یہ جنگ بندوں کے لیے نہیں بلکہ خدا کے لیے ہے اور بندوں کے غرض کے لیے نہیں بلکہ خاص خدا کی خوشنودی کے لیے ہے اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک خدا کے بے گناہ بندوں پر دست دارازی اور ظلم کا سلسلہ بند نہ ہو جائے فرمایا ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اسلامی تاریخ میں نبی اکرمؐ کا مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آنا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ اسلامی کیلنڈر ہجرت کے واقعے کو بنیاد بنا کر تیار کیا گیا ہے، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہجرت نبی کے بعد اسلام کمزور اور ضعف کے دور سے نکل کر قوت و شوکت کے دور میں داخل ہو گیا تھا اب ریاست بھی اس کی اپنی تھی اور حکمرانی بھی اپنی تھی۔
رسول اللہؐ نے مدینہ پہنچ کر انصار اور مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مدینہ کی پوری آبادی کو ایک معاہدے کے ذریعے متحد کرنے کی کوشش کی اس معاہدے میں مدینے کے یہودی اور مشرکین بھی شامل تھے اور اس معاہدے کو تاریخ میں میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ قریش چونکہ ہر قیمت پر فتنہ و فساد پھیلانا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے ساری روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مکہ کے حرم کے اندر بھی اللہ کے مہمانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ قبیلے اوس کے سردار سیدنا سعد عمرے کے لیے مکہ گئے تو حرم کے دروازے پر ابوجہل نے ان کو روکا اور بڑی رعونت سے کہا تم ہمارے دشمنوں کو اپنے ہاں پناہ دیتے ہو اور پھر یہاں اطمینان کے ساتھ عمرہ کرتے ہو خدا کی قسم اگر تم ابو سفیان امیہ بن خلف کے مہمان نہ ہوتے تو اپنے اہل و عیال کے پاس زندہ سلامت نہ پہنچ سکتے سیدنا سعد بن اوس کوئی معمولی انسان نہ تھے انہوں نے ترکی بترکی جواب دیا بخدا اگر تمہارے یہ ارادے ہیں تو جان لو کہ حرم میں اپنے داخلے پر پابندی کے نتیجے میں میں تمہارے اوپر اس چیز کی پابندی لگا دوں گا جس کو تم شدت سے محسوس کرو گے یعنی مدینے سے گزرنے والی تمہاری شاہراہ تجارت بند کر دوں گا۔ قریش کے ارادوں سے رسول اللہؐ واقف رہتے تھے ہمیشہ حالات کا نظر رکھتے اور دشمن کے عزائم سے کبھی غافل نہ رہے تھے آپؐ نے کبھی کسی پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ ذہنی طور پر ہر وقت تیار رہتے تھے وہ دشمن تک یہ بات بھی پہنچاتے رہتے تھے کہ مسلمان نہ تو غافل ہیں کہ کوئی ان پر اچانک چڑھ دوڑے، نہ مٹی کے مادھو ہیں کہ دشمن کا مقابلہ کرنے کی سکت اور صلاحیت نہیں رکھتے۔
غزالہ عزیز
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرنے کے لیے فتنہ و فساد دیا گیا ہے کے درمیان قرار دیا نہیں ہے ہوتا ہے اللہ کی اللہ کے ہے کہ ا خدا کی ہے اور اور اس ہیں کہ
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی