طالبان رجیم شدت پسندی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہورہی ہے،امریکی جریدہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (آن لائن)امریکی جریدے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان رجیم شدت پسندی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہورہی ہے۔ طالبان کے زیرِ اثر دہشت گرد گروہوں کے سرحد پار حملوں سے علاقائی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں – افغان طالبان کے زیر سایہ دہشتگرد گروپس پاکستان اور تاجکستان کی سرزمین پر اور چینی مفادات پر حملے کر رہے ہیں-امریکی جریدہ نیشنل انٹرسٹ کے مطابق طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد مدرسوں کی تعداد 13 ہزار سے بڑھ کر 23 ہزار ہو گئی- مدرسہ طالب علموں کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ کر 30 لاکھ ہو گئی-نیشنل انٹرسٹ کے مطابق مغربی ممالک ابھی بھی طالبان رجیم کو سیکورٹی کے بجائے صرف ایک اخلاقی مسئلہ سمجھ رہے ہیں- مغربی ممالک افغانستان سے اپنی سرزمین پر حملے نہ ہونے سے بظاہر مطمئن نظر اتے ہیں-نیشنل انٹرسٹ کے مطابق انسانی امداد کے نام پر طالبان رجیم کو ہفتہ وار نقد رقوم دی جا رہی ہیں- افغان سرزمین سے جڑی دہشت گردی میں اضافے کے باعث پاکستان سب سے زیادہ متاثرہواہے-نیشنل انٹرسٹ کے مطابق افغانستان سے تاجکستان میں ڈرون حملہ اور فائرنگ کے واقعات میں متعدد چینی شہری جہاں بحق، چینی مفادات براہِ راست ہدف پرہے۔ ترکستان اسلامک پارٹی کی افغانستان میں موجودگی چین کے لیے سنگین سیکورٹی خطرہ، چین اور پاکستان کا طالبان سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ ہے -افغانستان سے جڑا علاقائی بحران مغرب کے لیے بھی اہم، نظرانداز کرنے سے شدت پسند نیٹ ورکس منظم ہو سکتے ہیں -نیشنل انٹرسٹ کے مطابق افغانستان سے پھیلتے خطرات عالمی معیشت اور دہشت گردی کے خلاف حاصل کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیشنل انٹرسٹ کے مطابق افغانستان سے طالبان رجیم
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔