کوئٹہ میں نوجوان خواتین فٹبالرز کے لیے ایک تاریخی اور حوصلہ افزا موقع سامنے آیا ہے جہاں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی کوچز کی زیر نگرانی خصوصی فٹبال ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مارشل آرٹ میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی کوئٹہ کی باہمت خواتین

یہ تربیتی کیمپ قیوم پاپا اسٹیڈیم میں منعقد کیا گیا جس میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین اور مرد کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

اکیڈمی میں شریک ایک نوجوان فٹبالر نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ 6 ماہ سے فٹبال کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بچپن میں فٹبال کی شوقین نہیں تھی لیکن جب میں نے اس اکیڈمی کو جوائن کیا اور اپنی ٹیم کی فاؤنڈر اور سینیئر کھلاڑیوں کی جدوجہد کی کہانیاں سنیں تو مجھے احساس ہوا کہ اگر وہ اتنی مشکلات کے باوجود یہاں تک پہنچ سکتی ہیں تو میں بھی کچھ کر سکتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے قبائلی معاشرے میں لڑکیوں کے لیے کھیلوں کے میدان میں آنا آسان نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ فٹبال لڑکیوں کا کھیل نہیں، لڑکیوں کو گھر کے کاموں تک محدود رہنا چاہیے، یہاں تک کہ لباس پر بھی تنقید کی جاتی ہے۔ تاہم انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ ان کے گھر والوں نے مکمل تعاون کیا جو ان کے لیے سب سے بڑی طاقت ہے۔

نوجوان فٹبالر کے مطابق برطانیہ سے آئے کوچز کا رویہ نہایت مثبت اور حوصلہ افزا ہے۔

مزید پڑھیے: پست قامت لیکن حوصلے بڑے، کوئٹہ کی باہمت بلانستہ کی موٹیویشنل کہانی

انہوں نے بتایا کہ کوچز اوپن مائنڈڈ ہیں، اگر ہم سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ ڈانٹنے کی بجائے ہمیں گائیڈ کرتے ہیں کہ غلطی کو کیسے بہتر بنایا جائے۔

انہوں نے اپنے مستقبل کے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خواب ہے کہ وہ پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کا حصہ بنیں۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ کی باہمت خاتون کی کہانی

خاتون کھلاڑی نے کہا کہ اگر مجھے موقع ملا تو میں ملک کے لیے کھیلنا چاہوں گی اور اگر باہر جانے کا موقع ملا تو وہ بھی میرے لیے اعزاز ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان قیوم پاپا اسٹیڈیم کوئٹہ کوئٹہ کوئٹہ کی خواتین فٹبالرز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان کوئٹہ کوئٹہ کی انہوں نے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار