Islam Times:
2026-06-03@00:27:58 GMT

ایران، 22 بہمن (11 فروری) کی رات "اللہ اکبر" کی ملک گیر صدائیں

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

ایران، 22 بہمن (11 فروری) کی رات 'اللہ اکبر' کی ملک گیر صدائیں

اسلام ٹائمز: تکبیر کے نعروں کے ساتھ ساتھ ایرانی شہروں کے آسمان کی روشنی نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیا کہ 1404 کا ایران، 47 سال کے تجربے کے تجربے کے ساتھ، آج بھی اپنی آزادی اور خودمختاری کے نظریات پر قائم ہے۔ یہ رات کل کی عظیم پیش رفت کا پیش خیمہ تھی۔ آج کے دن ایران 22 بہمن (11 فروری) کی ریلیوں میں "قومی اتحاد" کے مظاہرے میں شریک ہو کر ایک بار پھر ثابت کرے گا کہ کوئی بھی طاقت ایسی قوم کا مقابلہ کرنے کی اہل نہیں جس کا ہتھیار "اللہ اکبر" ہو۔ خصوصی رپورٹ: 

اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام نے 22 بہمن (11 فروری) کی رات کو امریکی دھمکیوں اور فتنہ انگیزیوں کا طاقتور اور فیصلہ کن جواب "اللہ اکبر" کے نعرے سے دیا۔ تسنیم نیوز کے سیاسی رپورٹر کے مطابق 21 بہمن (10 فروری) کی شام 9 بجے اسلامی ایران کے آسمانوں نے ایک بار پھر "ایمان" اور "قومی جوش و جذبے" کے امتزاج کے ناقابل تلافی مناظر دیکھے۔ عین اس لمحے جب گھڑی کی سوئیوں نے انقلاب اسلامی کی شاندار فتح کی 47ویں سالگرہ کی آمد کا اعلان کیا، ملک بھر میں لوگوں نے گھروں کی چھتوں، مساجد، عوامی مقامات اور بالکونیوں سے یک جہتی اور ہمدردی کے ساتھ "اللہ اکبر" کی صدا بلند کی۔

دارالحکومت تھران اور دیگر صوبوں کے مختلف حصوں سے تسنیم کے رپورٹروں کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹس ایک مختلف اور معنی خیز حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا اداروں کے زہریلے پروپیگنڈے کے برعکس، جس نے معاشرے کے ماحول کو مایوسی اور ناامیدی ظاہر کرنے کی کوشش کی، اس سال اللہ اکبر کی پکار میں عوام کی موجودگی گزشتہ سالوں کی نسبت نمایاں طور پر زیادہ پرجوش،  زیادہ مربوط تھی۔ دارالحکومت کے شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک مختلف علاقوں میں تہرانی شہریوں نے چھتوں اور سڑکوں پر مٹھی بند کر کے دکھائی اور ایرانی قوم کے بارے میں دشمن کا اندازوں کو ہمیشہ کی طرح غلط ثابت کیا۔ 

یہ تکبیت کی گونج صرف ایک روایتی رسم نہیں تھی۔ یہ حالیہ واقعات کا واضح اور فیصلہ کن ردعمل بھی تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بنجمن نیتن یاہو کے بیانات کی شدت کے ساتھ اس پرجوش واقعات نے اس رات کے "اللہ اکبر" کی پکار کو ایک اسٹریٹجک پیغام دیا۔ یہ ایرانی عوام نے استکباری لیڈروں کی بار بار مبالغہ آرائی، ظالمانہ پابندیوں کی شدت اور قومی سلامتی کے خلاف خالی دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا۔ یہ پکار منافقت، شہنشاہیت اور ملکی اور غیر ملکی تخریب کاروں کے خلاف ردعمل تھا جو حالیہ مہینوں میں مغربی اور عبرانی انٹیلی جنس سروسز کے مکمل تعاون سے عدم تحفظ اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس کا ایک قابل ذکر نکتہ حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں اور منصوبہ بند بغاوتوں کے بارے میں لوگوں کا مربوط ردعمل تھا۔ ایرانی آسمانوں پر اللہ اکبر کا گونجتا ہوا نعرہ درحقیقت کسی بھی قسم کے انتشار، تباہی اور فتنہ کے لیے قوم کا مشترکہ "نہیں" تھا۔ میدان میں اس موجودگی کے ساتھ ہی عوام نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تر احتجاج کے باوجود وہ ملکی سلامتی کو غیروں کے ہاتھوں پامال ہونے اور دی ماہ کے شہداء کے خون کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ 

تکبیر کے نعروں کے ساتھ ساتھ ایرانی شہروں کے آسمان کی روشنی نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیا کہ 1404 کا ایران، 47 سال کے تجربے کے تجربے کے ساتھ، آج بھی اپنی آزادی اور خودمختاری کے نظریات پر قائم ہے۔ یہ رات کل کی عظیم پیش رفت کا پیش خیمہ تھی۔ آج کے دن ایران 22 بہمن (11 فروری) کی ریلیوں میں "قومی اتحاد" کے مظاہرے میں شریک ہو کر ایک بار پھر ثابت کرے گا کہ کوئی بھی طاقت ایسی قوم کا مقابلہ کرنے کی اہل نہیں جس کا ہتھیار "اللہ اکبر" ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اللہ اکبر کے تجربے تجربے کے کے ساتھ کرنے کی

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر