پاکستان کس ملک کے ساتھ کتنی تجارت کرتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان اور اس کے ہمسایہ و علاقائی ممالک کے درمیان تجارت کے تازہ سرکاری اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں، جن کے مطابق بعض ممالک کے ساتھ پاکستان کو نمایاں تجارتی سرپلس حاصل ہوا جبکہ چند بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ خسارہ بدستور برقرار ہے۔
وزارت تجارت کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں افغانستان کو پاکستان کی برآمدات 1 ارب 390 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 607 ملین ڈالر رہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم تقریباً 1 ارب 998 ملین ڈالر رہا اور پاکستان کو 783 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات پر زور
ایران کے ساتھ تجارت کے حوالے سے پاکستان کو خسارے کا سامنا ہے۔ رواں مالی سال میں ایران سے درآمدات کا حجم 1 ارب 155 ملین ڈالر رہا جبکہ برآمدات نہ ہونے کے برابر رہیں۔ یوں پاکستان کو ایران کے ساتھ 1 ارب 155 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں پاکستان کو مجموعی طور پر سرپلس حاصل رہا۔ ازبکستان کے ساتھ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی برآمدات 79.
تاجکستان اور کرغزستان کے ساتھ بھی پاکستان کو تجارتی فائدہ حاصل ہوا۔ تاجکستان کے ساتھ برآمدات 14.6 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 0.5 ملین ڈالر رہیں۔ اسی طرح کرغزستان کے ساتھ پاکستان کی برآمدات 4.8 ملین ڈالر اور درآمدات 0.3 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: سیاست اور خراب سفارتی تعلقات، پاک افغان تجارت میں کتنا نقصان ہورہا ہے؟
ترکمانستان کے ساتھ پاکستان کو معمولی تجارتی خسارے کا سامنا رہا، جہاں برآمدات 1.2 ملین ڈالر اور درآمدات 3.6 ملین ڈالر رہیں۔
دوسری جانب چین کے ساتھ تجارت میں خسارہ مزید بڑھ گیا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں چین کو پاکستان کی برآمدات 2 ارب 375 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 17 ارب ڈالر سے زائد رہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 19 ارب 376 ملین ڈالر رہا اور پاکستان کو 14 ارب 626 ملین ڈالر کا بھاری تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
بھارت کے ساتھ تجارت بدستور معطل ہے، تاہم ادویات کی درآمد جاری ہے۔ رواں مالی سال میں بھارت سے پاکستان کی درآمدات 295 ملین ڈالر سے زائد رہیں جبکہ برآمدات صفر رہیں، جس کے باعث اتنا ہی تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر ٹیرف لگائیں گے، امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی
بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں بنگلہ دیش کو پاکستان کی برآمدات 785 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 52 ملین ڈالر رہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کو 732 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔
ماہرین کے مطابق افغانستان، بنگلہ دیش اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی برآمدات پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہیں، تاہم چین، ایران اور بھارت کے ساتھ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے مزید مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان تجارت سرپلس معیشت ہمسایہ ممالک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان سرپلس ہمسایہ ممالک ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی ملین ڈالر جبکہ درآمدات پاکستان کی برآمدات مالی سال 2024 25 میں کے ساتھ پاکستان ممالک کے درمیان ملین ڈالر رہیں کے ساتھ تجارت تجارتی خسارہ تجارتی سرپلس پاکستان کو سرپلس حاصل حاصل ہوا
پڑھیں:
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے، چین نے مکئی کی درآمد کے لئے پاکستانی تاجروں کی رجسٹریشن بھی شروع کردی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق رائس ایکسپورٹرز ایسوسی کے وفد کا دورہ چین کامیابی سے جاری ہے ، جس دوران چاول کی برآمد کیلئے چین کے دو صوبوں کے ساتھ وفد نے ایم او یو سائن کر لیے ہیں، 30 سے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے چاول کی فروخت کے معاہدے متوقع ہیں ہیں۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید جیلانی کا کہناتھا کہ چین کو پاکستان سے مکئی کی برآمد بھی جلد شروع ہو جائے گی،چین کو باسمتی اور نان باسمتی دونوں اقسام کے چاول برآمد کریں گے،رواں مالی سال چاول کی برآمدات دوبارہ 3ارب ڈالر کی سطح عبور کر جائیں گی، چین کا دورہ جاری ہے مزید آرڈرز ملنے کا امکان ہے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :