WE News:
2026-06-02@22:07:22 GMT

پاکستان کس ملک کے ساتھ کتنی تجارت کرتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

پاکستان کس ملک کے ساتھ کتنی تجارت کرتا ہے؟

مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان اور اس کے ہمسایہ و علاقائی ممالک کے درمیان تجارت کے تازہ سرکاری اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں، جن کے مطابق بعض ممالک کے ساتھ پاکستان کو نمایاں تجارتی سرپلس حاصل ہوا جبکہ چند بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ خسارہ بدستور برقرار ہے۔

وزارت تجارت کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں افغانستان کو پاکستان کی برآمدات 1 ارب 390 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 607 ملین ڈالر رہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم تقریباً 1 ارب 998 ملین ڈالر رہا اور پاکستان کو 783 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے اقدامات پر زور

ایران کے ساتھ تجارت کے حوالے سے پاکستان کو خسارے کا سامنا ہے۔ رواں مالی سال میں ایران سے درآمدات کا حجم 1 ارب 155 ملین ڈالر رہا جبکہ برآمدات نہ ہونے کے برابر رہیں۔ یوں پاکستان کو ایران کے ساتھ 1 ارب 155 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں پاکستان کو مجموعی طور پر سرپلس حاصل رہا۔ ازبکستان کے ساتھ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی برآمدات 79.

5 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 26 ملین ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں 53 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس سامنے آیا۔ قازقستان کے ساتھ پاکستان نے 170 ملین ڈالر سے زائد کی برآمدات کیں جبکہ درآمدات محض 1.6 ملین ڈالر رہیں، یوں تجارتی سرپلس 170 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا۔

تاجکستان اور کرغزستان کے ساتھ بھی پاکستان کو تجارتی فائدہ حاصل ہوا۔ تاجکستان کے ساتھ برآمدات 14.6 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 0.5 ملین ڈالر رہیں۔ اسی طرح کرغزستان کے ساتھ پاکستان کی برآمدات 4.8 ملین ڈالر اور درآمدات 0.3 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے: سیاست اور خراب سفارتی تعلقات، پاک افغان تجارت میں کتنا نقصان ہورہا ہے؟

ترکمانستان کے ساتھ پاکستان کو معمولی تجارتی خسارے کا سامنا رہا، جہاں برآمدات 1.2 ملین ڈالر اور درآمدات 3.6 ملین ڈالر رہیں۔

دوسری جانب چین کے ساتھ تجارت میں خسارہ مزید بڑھ گیا ہے۔ مالی سال 2024-25 میں چین کو پاکستان کی برآمدات 2 ارب 375 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 17 ارب ڈالر سے زائد رہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 19 ارب 376 ملین ڈالر رہا اور پاکستان کو 14 ارب 626 ملین ڈالر کا بھاری تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

بھارت کے ساتھ تجارت بدستور معطل ہے، تاہم ادویات کی درآمد جاری ہے۔ رواں مالی سال میں بھارت سے پاکستان کی درآمدات 295 ملین ڈالر سے زائد رہیں جبکہ برآمدات صفر رہیں، جس کے باعث اتنا ہی تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر ٹیرف لگائیں گے، امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں بنگلہ دیش کو پاکستان کی برآمدات 785 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 52 ملین ڈالر رہیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کو 732 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا۔

ماہرین کے مطابق افغانستان، بنگلہ دیش اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی برآمدات پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہیں، تاہم چین، ایران اور بھارت کے ساتھ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے مزید مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان تجارت سرپلس معیشت ہمسایہ ممالک

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان سرپلس ہمسایہ ممالک ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی ملین ڈالر جبکہ درآمدات پاکستان کی برآمدات مالی سال 2024 25 میں کے ساتھ پاکستان ممالک کے درمیان ملین ڈالر رہیں کے ساتھ تجارت تجارتی خسارہ تجارتی سرپلس پاکستان کو سرپلس حاصل حاصل ہوا

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف