پشاور/کوئٹہ (نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فرنٹیئر کور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں سرگرم ہے اور دور دراز علاقوں میں شہریوں کو صحت، سماجی سہولتوں اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) کی جانب سے ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں شہریوں کے لیے مفت آئی کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں امراضِ چشم میں مبتلا 1200 سے زائد مریضوں کا مفت طبی معائنہ کیا گیا۔ کیمپ کے دوران مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں جبکہ ضرورت مند افراد کو نظر کی عینکیں بھی دی گئیں۔ ایف سی کے اس اقدام سے دور افتادہ علاقوں کے شہریوں کو علاج معالجے کی سہولت میسر آئی۔

دوسری جانب فرنٹیئر کور بلوچستان (ساؤتھ) بھی جنوبی بلوچستان میں فلاحی سرگرمیوں میں پیش پیش ہے۔ ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے 298 فری میڈیکل کیمپس کے دوران تقریباً 18 ہزار مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کیں، جس سے مقامی آبادی کو علاج کی سہولت اپنے علاقوں میں ہی میسر آئی۔

عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے 48 کھلی کچہریوں اور جرگوں کا بھی انعقاد کیا، جہاں شہریوں کے مسائل سنے گئے اور موقع پر ہی ان کے حل کے لیے اقدامات کیے گئے۔

نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے جنوری 2026 کے دوران 38 اسپورٹس ٹورنامنٹس کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔
https://mnews.

pk/wp-content/uploads/2026/02/landikotal-video.mp4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ