خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فرنٹیئر کورعوام کیلئے فلاحی کاموں میں کوشاں
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پشاور/کوئٹہ (نیوز ڈیسک)خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فرنٹیئر کور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں سرگرم ہے اور دور دراز علاقوں میں شہریوں کو صحت، سماجی سہولتوں اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (نارتھ) کی جانب سے ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں شہریوں کے لیے مفت آئی کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں امراضِ چشم میں مبتلا 1200 سے زائد مریضوں کا مفت طبی معائنہ کیا گیا۔ کیمپ کے دوران مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں جبکہ ضرورت مند افراد کو نظر کی عینکیں بھی دی گئیں۔ ایف سی کے اس اقدام سے دور افتادہ علاقوں کے شہریوں کو علاج معالجے کی سہولت میسر آئی۔
دوسری جانب فرنٹیئر کور بلوچستان (ساؤتھ) بھی جنوبی بلوچستان میں فلاحی سرگرمیوں میں پیش پیش ہے۔ ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے 298 فری میڈیکل کیمپس کے دوران تقریباً 18 ہزار مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کیں، جس سے مقامی آبادی کو علاج کی سہولت اپنے علاقوں میں ہی میسر آئی۔
عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) نے 48 کھلی کچہریوں اور جرگوں کا بھی انعقاد کیا، جہاں شہریوں کے مسائل سنے گئے اور موقع پر ہی ان کے حل کے لیے اقدامات کیے گئے۔
نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے جنوری 2026 کے دوران 38 اسپورٹس ٹورنامنٹس کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔
https://mnews.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔