انڈس اے آئی ویک 2026؛ پاکستان کے ڈیجیٹل انقلاب کی جانب تاریخی سنگِ میل
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
ایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی اقدامات سے قومی اقتصادی اور ٹیکنالوجی منصوبوں کو عملی پیش رفت حاصل ہو رہی ہے۔
پاکستان میں اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ’’انڈس اے آئی ویک 2026‘‘ ایونٹ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
قومی سطح کے اسٹریٹجک فورم پر مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ٹیکنالوجیز سے متعلق متعدد سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ ’’اے آئی فار ہر‘‘، نیشنل اے آئی بوٹ کیمپ، گلوبل گیم جیم، ٹیک مقابلے اور گورنمنٹ و ڈیفنس ٹیک نمائش بھی ایونٹ کا حصہ تھے۔
اے آئی ڈیٹا اینالسٹ محمد احمد نے ایونٹ کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عظیم ایونٹ کے انعقاد اور پاکستان کی صلاحیتوں کو پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے پر ایس آئی ایف سی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
عطا الرحمٰن، چیف بزنس آفیسر، ڈیوسِنک کا کہنا تھا کہ میں ایس آئی ایف سی، پاشا، پی ایس ای بی اور وزارتِ آئی ٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ اقدام اے آئی آگاہی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔
ایس آئی ایف سی کی اسٹریٹجک معاونت قومی اے آئی ایکوسسٹم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی اے آئی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔