روزانہ تین کپ چائے پیجیے، آپ کی یادداشت بہتر ہوگی، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دماغی بیماری ڈیمنشیا کے حوالے سے ایک نئی تحقیق میں اہم انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ معتدل مقدار میں چائے یا کافی پینے سے اس مرض کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے 2 سے 3 کپ کیفین والے گرم مشروبات استعمال کرنے والے افراد میں ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کا امکان تقریباً 15 سے 20 فیصد تک کم دیکھا گیا ہے۔
یہ تحقیق امریکا میں ایک لاکھ 31 ہزار افراد کے صحت کے ریکارڈز کے تفصیلی تجزیے پر مبنی ہے۔ محققین نے شرکا سے ان کی روزمرہ عادات کے بارے میں سوالات کیے، خصوصاً یہ کہ وہ دن بھر میں کتنی مقدار میں چائے یا کافی پیتے ہیں۔ اس کے بعد تقریباً 4 دہائیوں پر محیط عرصے میں ان کی یادداشت، ذہنی کارکردگی اور مجموعی صحت کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد روزانہ 2 سے 3 کپ کیفین والی چائے یا کافی استعمال کرتے تھے، ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں کم تھا جو یہ مشروبات نہیں پیتے تھے، تاہم تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تین کپ سے زیادہ مقدار استعمال کرنے سے اضافی فائدہ سامنے نہیں آیا۔
مزید یہ کہ کیفین والی کافی پینے والوں میں دماغی صلاحیتوں میں کمی کی رفتار نسبتاً سست دیکھی گئی اور انہوں نے مختلف ذہنی ٹیسٹوں میں بہتر کارکردگی دکھائی جب کہ ڈی کیف کافی استعمال کرنے والوں میں یہ فائدہ نمایاں نہیں تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، مگر متوازن غذا، ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی بھی دماغی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تحقیق نے ایک بار پھر روزمرہ عادات اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کو عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔