لاشیں کیوں نہ مل سکیں؟ غزہ میں تباہ کن ہتھیاروں کے استعمال کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
10 اگست 2024 کی صبح یاسمین مہانی غزہ سٹی کے التبین اسکول کے کھنڈرات میں اپنے بیٹے سعد کو تلاش کرتی رہیں، مگر انہیں اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔
ان کے بقول وہ مسجد میں داخل ہوئیں تو ہر طرف خون اور انسانی گوشت کے ٹکڑے بکھرے تھے۔ کئی دن اسپتالوں اور مردہ خانوں میں تلاش کے باوجود سعد کی لاش تک نہ مل سکی۔
یہ بھی پڑھیں:
وہ کہتی ہیں کہ تدفین کے لیے جسم تک نہ ملنا سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
یاسمین مہانی ان ہزاروں فلسطینیوں میں شامل ہیں جن کے پیارے اسرائیل کی غزہ پر جاری جنگ کے دوران لاپتا ہو گئے ہیں۔ اس جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
If you're wondering why there's no trace of more than 3,000 child killed in Gaza.
It is because Israel killed them with US-supplied thermal and thermobaric munitions burning at 3,500 degrees Celsius.
Israel used weapons in Gaza that made thousands of Palestinians evaporate. pic.twitter.com/WdMabjgFoX
— Mohamad Safa (@mhdksafa) February 10, 2026
الجزیرہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ کی سول ڈیفینس ٹیموں نے 2,842 ایسے فلسطینیوں کو ریکارڈ کیا ہے، جو حملوں کے بعد مکمل طور پر ’غائب‘ ہو گئے۔
’دی ریسٹ آف دی اسٹوری‘ میں بتایا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جائے وقوعہ پر صرف خون کے چھینٹے یا جسم کے چھوٹے ٹکڑے ملے، مکمل لاش نہیں۔
مزید پڑھیں:
سول ڈیفینس کے ترجمان محمود بصل کے مطابق ٹیمیں حملے کی جگہ پر موجود افراد کی تعداد اور ملنے والی لاشوں کا تقابلی جائزہ لیتی ہیں۔
اگر تعداد پوری نہ ہو اور طویل تلاش کے باوجود صرف حیاتیاتی آثار ملیں تو باقی افراد کو ’بخارات بن جانے‘ والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں ماہرین اور عینی شاہدین نے اس رجحان کو حرارتی اور تھرمو بیریک ہتھیاروں کے استعمال سے جوڑا ہے، جو 3,000 سے 3,500 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت پیدا کر سکتے ہیں۔
روسی فوجی ماہر واسیلی فتیگاروف کے مطابق ان ہتھیاروں میں ایندھن کا بادل پھیل کر آگ کا بڑا گولا اور خلا نما دباؤ پیدا کرتا ہے، جبکہ ایلومینیم، میگنیشیم اور ٹائٹینیم جیسے عناصر درجہ حرارت کو مزید بڑھاتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش کے مطابق انسانی جسم کا بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور انتہائی حرارت و دباؤ کے باعث جسمانی رطوبتیں فوراً ابل کر بافتوں کو راکھ میں بدل دیتی ہیں۔
تحقیق میں امریکی ساختہ بموں جیسے MK-84، BLU-109 اور GBU-39 کا ذکر کیا گیا ہے، جنہیں مختلف حملوں میں استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھیار جو جنگجو اور عام شہری میں فرق نہ کر سکیں، بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتے ہیں۔
قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی لیکچرر اور وکیل ڈیانا بٹو کے مطابق اسلحے کی فراہمی میں مغربی ممالک کی شمولیت بھی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
مزید پڑھیں:
دوسری جانب بین الاقوامی عدالت انصاف اور عالمی فوجداری عدالت کی کارروائیوں کے باوجود زمینی صورتحال میں بہتری نہ آنے پر ماہرین نے عالمی انصاف کے نظام کو ناکام قرار دیا ہے۔
بوریج پناہ گزین کیمپ کے رہائشی رفیق بدران، جنہوں نے اپنے 4 بچوں کو کھو دیا، کہتے ہیں کہ انہیں بچوں کے صرف چند ٹکڑے دفنانے کے لیے ملے۔
’میرے 4 بچے بس بخارات بن گئے، کچھ بھی باقی نہ بچا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل الجزیرہ ایلومینیم پناہ گزین تھرمو بیریک ٹائٹینیم جنگی جرم حرارتی سول ڈیفینس سینٹی گریڈ غزہ فوجداری عدالت میگنیشیم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل الجزیرہ ایلومینیم پناہ گزین تھرمو بیریک ٹائٹینیم جنگی جرم حرارتی سول ڈیفینس سینٹی گریڈ فوجداری عدالت میگنیشیم کے مطابق
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔