Jasarat News:
2026-06-02@23:35:34 GMT

ٹرمپ کی مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260211-01-25
غزہ /تل ابیب /واشنگٹن /سڈنی /جکارتہ /لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کر دی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مغربی کنارے میں استحکام سے اسرائیل محفوظ رہے گا‘ فلسطینی علاقوں میں استحکام خطے میں قیام امن کے امریکی ہدف کے مطابق ہے۔دوسری جانب برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے پر قبضے کو وسعت دینے کے اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، فلسطین کی جغرافیائی ساخت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہوگی، اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان فیصلوں کو فوری طور پر واپس لے۔ انڈونیشیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ میں فوج بھیجنے کا اعلان کر دیا۔ انڈونیشیا کے صدارتی ترجمان پراسیٹو ہادی نے کہا ہے کہ غزہ کے لیے مجوزہ کثیر ملکی امن فورس میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار فوجی شامل ہو سکتے ہیں، جن میں سے انڈونیشیا 8 ہزار فوجی فراہم کر سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کسی حتمی معاہدے کی صورت میں امن فورس بھیجنے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے جبکہ بورڈ آف پیس کی مستقل رکنیت کے لیے درکار ایک ارب ڈالر کی ادائیگی سے قبل مذاکرات ہوں گے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات کے لیے امریکا روانہ ہوگئے جہاں دو بڑوں کی بڑی بیٹھک ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر ہو گی۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو (آج بدھ) کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات کے بعد نہ کوئی مشترکہ پریس کانفرنس ہوگی اور نہ ہی علیحدہ علیحدہ میڈیا کے سامنے بیانات کا سلسلہ ہوگا البتہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ٹرمپ کو ایران مذاکرات پر اپنا اصولی مؤقف پیش کریں گے۔آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورے کے خلاف ہونے والا احتجاجگزشتہ روز تشدد کا رخ اختیار کر گیا، جس کے بعد سڈنی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق احتجاج میں ہزاروں افراد شریک تھے۔رپورٹس کے مطابق دسمبر میں سڈنی کے بونڈی بیچ پر حنوکہ کی تقریب کے دوران ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کا چار روزہ دورہ آسٹریلیا کی یہودی برادری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھا تاہم ان کے دورے پر سڈنی اور میلبورن میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے میں ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، جہاں فلسطین کے حق میں نعرے لگائے گئے اور تقاریر کی گئیں۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ اسرائیلی صدر غزہ میں شہری ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری، گھڑ سوار اہلکار اور ہیلی کاپٹر بھی تعینات رہے۔غزہ میں قابض اسرائیلی افواج کے حملوں میں منگل کے روز مزید 3 شہری جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔ قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کا منگل کو 122 واں دن تھا جس کے دوران قطاع غزہ کے مختلف علاقوں میں بمباری اور عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ سفاکیت کے ساتھ جاری ہے۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ قابض صہیونی حکومت کے گٹھ جوڑ اور خونریزی پر قابض حکام کی بے حسی کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ رواں سال کے آغاز سے اب تک 36 افراد قتل ہو چکے ہیں اور ہلاکتوں کی یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ رفح بری کراسنگ پر مسافروں کی آمد و رفت کی فیلڈ مانیٹرنگ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ مسافروں کی تعداد میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ صورتحال قابض اسرائیل اور اس کی ملیشیاؤں کی جانب سے جاری مسلسل خلاف ورزیوں، سیکورٹی رکاوٹوں اور من مانے جابرانہ اقدامات کا نتیجہ ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔گورنمنٹ میڈیا آفس سے جاری کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پیر دوفروری 2026ء سے پیر 9 فروری تک کی مدت کے دوران صرف 225 مسافروں نے کراسنگ عبور کی۔ یہ اعداد و شمار قطاع غزہ کے باسیوں کے لیے نقل و حمل کے واحد راستے کی انتہائی ابتر صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارہ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کارروائیاں کرکے 22 شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ تحقیقاتی دستاویزی پروگرام ’’للقص بقیہ‘‘ نے فیلڈ شہادتوں اور سرکاری رپورٹس کے ذریعے ایسے لرزہ خیز حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جو غزہ کی پٹی میں ہزاروں شہدا کے جسدِ خاکی کے غائب ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے عالمی سطح پر ممنوعہ ایسے ہتھیار استعمال کیے ہیں جن کے تباہ کن حرارتی اور خلائی اثرات انسانی اجسام کو بھاپ بنا کر اڑا دیتے ہیں۔الجزیرہ پر نشر ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق غزہ میں سول ڈیفنس کی رپورٹس اور طبی عملے سمیت متاثرہ خاندانوں کی شہادتوں سے ثابت ہوا ہے کہ 2023ء سے جاری اس سفاکیت میں 2842 سے زاید ایسے شہدا ہیں جن کا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔ ان کے نشانہ بننے والے مقامات پر خون کی چھینٹوں یا انتہائی معمولی انسانی باقیات کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ حملے ایسے حرارتی اور خلائی دھماکا خیز مواد سے کیے گئے جو 3500 ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت پیدا کرتے ہیں۔ اس قدر شدید تپش اور ہولناک دباؤ انسانی جسم میں موجود مائعات کو بھاپ بنا دیتا ہے اور انسانی خلیوں کو راکھ میں بدل دیتا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قابض اسرائیل علاقوں میں کی جانب سے کے دوران کرتے ہیں کے مطابق ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان