پاکستان کا غذائی نظام صحت بخش، متوازن اور متنوع خوراک کی فراہمی میں شدید ناکام، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کی قیادت میں ہونے والے ایک تازہ تجزیے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا غذائی نظام کیلوریز تو وافر مقدار میں پیدا کر رہا ہے، تاہم صحت بخش، متوازن اور متنوع خوراک کی فراہمی میں شدید کمی پائی جاتی ہے۔
یہ نتائج اسلام آباد میں منعقدہ ’پائیدار غذائی نظام کی تبدیلی کے لیے مربوط روڈ میپ‘ سے متعلق قومی ورکشاپ میں پیش کیے گئے۔ یہ تجزیہ ایف اے او نے اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ورلڈ فوڈ پروگرام، یونیسیف، آئی ایف اے ڈی اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے مکمل کیا۔
یہ بھی پڑھیے: عمر کے مختلف مراحل میں غذائی اجزا کی اہمیت: کس عمر میں کون سی خوراک مفید ہے
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر خوراک کی توانائی دستیاب ہے، مگر 2018 کی قومی غذائی رہنما ہدایات کے مطابق صحت مند غذا کے لیے درکار اجزا میسر نہیں۔
پھلوں، سبزیوں، دالوں اور پھلیوں کی دستیابی میں نمایاں کمی ہے، جب کہ اناج، چینی اور خوردنی تیل کی ضرورت سے زائد فراہمی متوازن غذا کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں اناج کا استعمال غالب ہے، جبکہ دودھ اور دودھ سے بنی اشیا دوسرے نمبر پر ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال خاص طور پر دیہی علاقوں میں کم ہے، جس سے غذائی اجزا کی کمی بڑھ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں غذائی قلت کی صورتحال ابتر، عالمی ادارہ خوراک نے انتباہ جاری کر دیا
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 3 کروڑ 45 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں اور غیر متعدی امراض مجموعی اموات کے 58 فیصد کا سبب بن رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو صحت اور معیشت دونوں پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔
تجزیے میں حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ سبسڈیز کا رخ غذائیت سے بھرپور خوراک کی پیداوار اور دستیابی کی جانب موڑا جائے، جبکہ چینی اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس بڑھا کر حاصل آمدن کو صحت مند خوراک کے پروگراموں پر خرچ کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خوراک کی
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔