data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شناختی تصدیق کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ’نشان پاکستان‘ کے نام سے ایک نئی ڈیجیٹل سہولت متعارف کرائی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد نہ صرف شہریوں کی شناخت کی محفوظ تصدیق کو یقینی بنانا ہے بلکہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کو بھی تقویت دینا ہے۔

ترجمان نادرا کے مطابق ادارہ نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 7 کے تحت قومی ڈیٹا بیس کی تیاری اور اس سے متعلق خدمات فراہم کرنے کا مجاز ہے۔ اسی قانونی دائرہ کار اور نادرا (ڈیٹا شیئرنگ) ریگولیشنز 2025 اور نادرا (آئیڈنٹیٹی ویریفکیشن) ریگولیشنز 2026 کے تحت ’نشان پاکستان‘ ویب پورٹل کا اجرا کیا گیا ہے۔

اس پورٹل کے ذریعے سرکاری محکموں اور ریگولیٹڈ نجی اداروں کو ایک جامع آن لائن پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے جہاں وہ رجسٹریشن، سبسکرپشن اور رسائی سمیت تمام مراحل مکمل کر سکتے ہیں۔

ماضی میں شناختی تصدیق کے عمل میں متعدد پیچیدہ مراحل شامل ہوتے تھے اور اداروں کو طویل دستاویزی کارروائی سے گزرنا پڑتا تھا، جس سے تاخیر اور شفافیت کے مسائل پیدا ہوتے تھے۔ نئی سروس کے تحت یہ تمام عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل اور مربوط بنا دیا گیا ہے، جس سے وقت کی بچت اور ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

نشان پاکستان کے ذریعے بینک، مائیکروفنانس بینک، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز، نان بینکنگ فنانشل ادارے اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں نادرا کی مختلف ویریفکیشن سروسز تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکیں گی۔ رجسٹرڈ اداروں کو ملٹی بائیومیٹرک ویریفکیشن اے پی آئی، پروف آف لائف اے پی آئی اور سنگل سائن آن جیسی جدید سہولیات دستیاب ہوں گی۔

اعلامیے کے مطابق یہ قدم ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ (DEEP) کے تحت اٹھایا گیا ہے اور مالی شمولیت و ای گورننس کی قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ شہریوں کا ڈیجیٹل نظام پر اعتماد بھی بڑھے گا، جو ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گیا ہے کے تحت

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری