ایل ڈی اے میں کمرشل جائیدادوں کے مالکان کیلئے بڑی خبر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
سٹی42: لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے کمرشل جائیدادوں کے مالکان کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کرتے ہوئے ون ٹائم ایمنسٹی دینے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت واجبات کی ادائیگی میں نرمی فراہم کی جائے گی۔
کابینہ کی منظوری کے بعد لینڈ یوز رولز میں ترمیم کر کے کمرشل پراپرٹیز کے مالکان کو ریلیف دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے مجوزہ ترامیم مسترد کر دی تھیں، تاہم اصلاحات کے بعد دوبارہ بھجوایا گیا قانون منظور کر لیا گیا۔
کینیڈا: اسکول اور گھر میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک
ماضی میں کمرشل فیس بروقت ادا نہ کرنے والے مالکان کو بھاری جرمانوں اور نئے مالی سال کے ریٹ کے اطلاق کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سے واجبات کئی گنا بڑھ جاتے تھے۔
نئے قانون کے تحت مالکان کو کیس کی منظوری والے مالی سال کے ریٹ کے مطابق ادائیگی کی سہولت دی جائے گی۔ مالکان ساڑھے 22 فیصد فیس ادا کر کے اپنے کیس کو ریگولر کرا سکیں گے۔
مزید برآں ڈیفالٹ ہونے کے بعد ادائیگی کے لیے 4 ماہ کا گریس پیریڈ دیا جائے گا، جبکہ 30 فیصد جرمانہ ادا کر کے 6 ماہ تک کمرشل کیس ریگولر کرانے کی سہولت بھی میسر ہوگی۔
رمضان سے قبل بلوچستان میں آٹا مہنگا
گریونیس کمیٹی کو ون ٹائم ایمنسٹی دینے کا اختیار متعلقہ چیف ٹاؤن پلانر کے پاس ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ