اریکا حق کا سوشل میڈیا پر انفلوئنسر بننے کی خواہشمند لڑکیوں اہم مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
پاکستان کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اریکا حق نے سوشل میڈیا پر انفلوئنسر بننے کی خواہشمند لڑکیوں کو درپیش خطرات سے خبردار کردیا۔
اریکا حق نے نوجوان لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر قدم رکھتے وقت محتاط رہیں، اپنی پرائیویسی کا خیال رکھیں اور شہرت کے حصول کے لیے ایسے راستے اختیار نہ کریں جو بعد میں ان کے لیے مسائل کھڑے کر دیں۔
ایک انٹرویو میں اریکا حق کا کہنا تھا کہ شہرت حاصل کرنے کی دوڑ میں بعض لڑکیاں حد سے آگے چلی جاتی ہیں اور توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنی ہی نجی یا متنازع ویڈیوز دانستہ طور پر سامنے لے آتی ہیں۔
اریکا حق نے بتایا کہ ماضی میں جوڑی یا کپل ویڈیوز بنانے کا رجحان عام تھا، جس کے ذریعے کئی لوگ مشہور ہوئے، تاہم جب یہ ٹرینڈ ختم ہوا تو کچھ افراد نے دوبارہ شہرت حاصل کرنے کے لیے متنازع راستے اختیار کرنا شروع کر دیے۔ ان کے مطابق یہ رویہ ہر کسی میں نہیں پایا جاتا لیکن ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
اریکا حق کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی حدود کا خیال رکھا اور شہرت کے لیے کبھی اپنی نجی زندگی کو استعمال نہیں کیا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر کامیابی کے لیے کردار اور وقار کو برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے، ورنہ وقتی شہرت بعد میں مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا کے منفی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن تنقید، ٹرولنگ اور نامناسب تبصرے ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔ اریکا نے اعتراف کیا کہ وہ بھی ایک وقت میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار رہیں، تاہم خاندان اور قریبی دوستوں کی مدد سے اس مشکل مرحلے سے باہر نکل آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر اریکا حق کے لیے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔