معروف امریکی پاپ اسٹار برٹنی اسپئیرز نے اپنے گانوں کے حقوق کتنے میں فروخت کیے؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
معروف امریکی پاپ اسٹار برٹنی اسپیئرز نے اپنے مشہور گانوں کے حقوق فروخت کر دیے ہیں جس میں ان کے مشہور گانے ’بیبی ون مور ٹائم‘ اور ’اوپس آئی ڈڈ اٹ اگین‘ شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً 200 ملین ڈالر کا ہے اگرچہ قانونی دستاویزات میں رقم کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔
یہ ڈیل کینیڈین گلوکار جسٹن بیبر کے 2023 میں اپنے گانوں کے حقوق کی فروخت کے معاہدے کے مساوی ہے۔ اسپئیرز ایسے فنکاروں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں جنہوں نے حالیہ برسوں میں اپنے میوزک کے حقوق فروخت کیے، جن میں بروس اسپرنگسٹین، باب ڈیلن، شکیرا اور KISS بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برٹنی اسپیئرز کی کتاب ’دی وومن ان می‘ فروخت کے ریکارڈ توڑ سکے گی؟
میوزک رائٹس خریدنے والی کمپنی پرائمری ویو ہے جس کے پاس وِٹنی ہیوسٹن، باب مارلے اور پرنس کے کام شامل ہیں۔ کسی گانے کے پبلشنگ حقوق رکھنے والے فنکار ہر نشر، البم کی فروخت یا اشتہارات اور فلموں میں استعمال پر ادائیگی وصول کرتے ہیں جس سے ان کے گانوں کے حقوق کو طویل مدتی مالی اثاثے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
برٹنی اسپئیرز نے 1990 کی دہائی کے آخر میں شہرت حاصل کی تھی لیکن حالیہ سالوں میں زیادہ تر میوزک سے دور رہی ہیں۔ یاد رہے کہ 2021 میں امریکی عدالت نے 13 سالہ کنزرویٹورشپ ختم کر دی تھی جس کے تحت اسپئیرز کے والد ان کے مالی معاملات پر قابو رکھتے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی پاپ اسٹار برٹنی اسپیئرز برٹنی اسپیئرز گانے برٹنی اسپیئرز گانے کے حقوق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی پاپ اسٹار برٹنی اسپیئرز برٹنی اسپیئرز گانے برٹنی اسپیئرز گانے کے حقوق برٹنی اسپیئرز گانوں کے حقوق
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔