معروف امریکی پاپ اسٹار برٹنی اسپیئرز نے اپنے مشہور گانوں کے حقوق فروخت کر دیے ہیں جس میں ان کے مشہور گانے ’بیبی ون مور ٹائم‘ اور ’اوپس آئی ڈڈ اٹ اگین‘ شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً 200 ملین ڈالر کا ہے اگرچہ قانونی دستاویزات میں رقم کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔

یہ ڈیل کینیڈین گلوکار جسٹن بیبر کے 2023 میں اپنے گانوں کے حقوق کی فروخت کے معاہدے کے مساوی ہے۔ اسپئیرز ایسے فنکاروں کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گئی ہیں جنہوں نے حالیہ برسوں میں اپنے میوزک کے حقوق فروخت کیے، جن میں بروس اسپرنگسٹین، باب ڈیلن، شکیرا اور KISS بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برٹنی اسپیئرز کی کتاب ’دی وومن ان می‘ فروخت کے ریکارڈ توڑ سکے گی؟

میوزک رائٹس خریدنے والی کمپنی پرائمری ویو ہے جس کے پاس وِٹنی ہیوسٹن، باب مارلے اور پرنس کے کام شامل ہیں۔ کسی گانے کے پبلشنگ حقوق رکھنے والے فنکار ہر نشر، البم کی فروخت یا اشتہارات اور فلموں میں استعمال پر ادائیگی وصول کرتے ہیں جس سے ان کے گانوں کے حقوق کو طویل مدتی مالی اثاثے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

برٹنی اسپئیرز نے 1990 کی دہائی کے آخر میں شہرت حاصل کی تھی لیکن حالیہ سالوں میں زیادہ تر میوزک سے دور رہی ہیں۔ یاد رہے کہ 2021 میں امریکی عدالت نے 13 سالہ کنزرویٹورشپ ختم کر دی تھی جس کے تحت اسپئیرز کے والد ان کے مالی معاملات پر قابو رکھتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی پاپ اسٹار برٹنی اسپیئرز برٹنی اسپیئرز گانے برٹنی اسپیئرز گانے کے حقوق.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی پاپ اسٹار برٹنی اسپیئرز برٹنی اسپیئرز گانے برٹنی اسپیئرز گانے کے حقوق برٹنی اسپیئرز گانوں کے حقوق

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم