برٹش کونسل نے اسٹڈی یو کے ایلومنائی ایوارڈز 2026 پاکستان میں نمایاں سابق طلبہ کو اعزاز سے نواز دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
برٹش کونسل نے اسٹڈی یو کے ایلومنائی ایوارڈز 2026 پاکستان میں نمایاں سابق طلبہ کو اعزاز سے نواز دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 February, 2026 سب نیوز
لاہور،
برٹش کونسل، جو ثقافتی تعلقات اور تعلیمی مواقع کے فروغ کے لیے برطانیہ کا بین الاقوامی ادارہ ہے، نے حال ہی میں لاہور کے آواری ہوٹل میں باوقار اسٹڈی یو کے ایلومنائی ایوارڈز 2026 کی تقریب کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں برطانیہ کی اعلیٰ تعلیمی جامعات کے سابق طلبہ کی مختلف شعبہ جات میں نمایاں خدمات اور کامیابیوں کو سراہا گیا۔
پاکستان اُن چند منتخب ممالک میں شامل ہے جہاں قومی سطح پر اسٹڈی یو کے ایلومنائی ایوارڈز کی تقریب منعقد کی جاتی ہے، جو خطے میں برطانوی تعلیم یافتہ افراد کے نمایاں اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔
اس سال کی تقریب میں برطانوی ہائی کمشنر برائے پاکستان، جین میریئٹ بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ دیگر معزز مہمانوں میں جیمز ہیمپسن (کنٹری ڈائریکٹر، برٹش کونسل پاکستان)، ربیکا والٹن (سیکرٹری، چارلس والیس پاکستان ٹرسٹ)، سارہ بیریسفورڈ (اسٹڈی یو کے سینئر ایلومنائی منیجر)، برطانوی جامعات کے نمائندگان، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہم افراد شامل تھے۔ تقریب کی میزبانی معروف اداکار، تھیٹر ڈائریکٹر اور پروڈیوسر عمیر طاہر رانا نے کی جبکہ معروف گلوکارہ نتاشا بیگ کی پُرجوش موسیقی پرفارمنس بھی پیش کی گئی۔
تقریب میں چار مختلف کیٹیگریز کے تحت برطانیہ سے تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد کی کامیابیوں کو سراہا گیا:
• بزنس اینڈ انوویشن ایوارڈ
• سائنس اینڈ سسٹینیبلیٹی ایوارڈ
• سوشل ایکشن ایوارڈ
• کلچر، کری ایٹیویٹی اینڈ اسپورٹ ایوارڈ
برٹش کونسل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز ہیمپسن نے کہا:
“پاکستان سے تعلق رکھنے والے اسٹڈی یو کے ایلومنائی ایوارڈز کے فائنلسٹس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ برطانوی اعلیٰ تعلیم دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط اور مثبت تبدیلی میں کتنا مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔”
سائنس اینڈ سسٹینیبلیٹی ایوارڈ
یہ ایوارڈ سائنس اور پائیداری کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے سابق طلبہ کو دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز یونیورسٹی آف ایسیکس کی سابق طالبہ ڈاکٹر نادیہ نواز قادری کو دیا گیا۔ سندھ کے ایک دور دراز گاؤں سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر قادری اس وقت کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر آف کمپیوٹر انجینئرنگ اور سینٹر فار انوویشن اِن نیٹ ورکس، ٹیلی کام اینڈ اے آئی کی بانی سربراہ ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد تجربے، متعدد تحقیقی اشاعتوں اور امریکی پیٹنٹس کی حامل ڈاکٹر قادری پاکستان میں انجینئرنگ تعلیم، اطلاقی تحقیق اور خواتین کی اسٹیم شعبوں میں شمولیت کو فروغ دے رہی ہیں۔
اس کیٹیگری کے فائنلسٹس میں یونیورسٹی آف گلاسگو کی ڈاکٹر گل بینا سلیم اور یونیورسٹی آف ویسٹ آف اسکاٹ لینڈ کی شاہینہ سلمان علوانی شامل تھیں۔
بزنس اینڈ انوویشن ایوارڈ
یہ ایوارڈ ایسے سابق طلبہ کو دیا جاتا ہے جو جدید خیالات، حل یا کاروباری مواقع متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کریں۔ یہ اعزاز یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سابق طالب علم ڈاکٹر مرتضیٰ نجابت علی کو دیا گیا۔ ڈاکٹر علی ایک ممتاز میڈیکل ڈیوائس محقق، معلم اور صنعتکار ہیں جو پاکستان اور امریکہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہیں وزیر اعظم آفس کی جانب سے پاکستان کی پہلی سرکاری میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری قائم کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا، جس کے تحت انہوں نے وفاقی حکومت اور بین الاقوامی اداروں سے تقریباً 1.
اس کیٹیگری کے فائنلسٹس میں یونیورسٹی آف نارتھمپٹن کے محسن مسعود ملک اور یونیورسٹی آف ایبرڈین کے شبیر احمد شامل تھے۔
سوشل ایکشن ایوارڈ
یہ ایوارڈ معاشرتی مثبت تبدیلی اور کمیونٹی کی بہتری میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والے سابق طلبہ کو دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز یونیورسٹی آف سرے کے سابق طالب علم اور چیوننگ اسکالر عون عباس بخاری کو دیا گیا۔ وہ پنجاب کے محکمہ صحت و آبادی میں بطور اسپیشل سیکرٹری (آپریشنز) خدمات انجام دے رہے ہیں اور معذور افراد کے لیے اصلاحات کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں 38 ہزار سے زائد بچوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں، سروس فراہم کنندگان کی تربیت کی گئی اور نگہداشت کرنے والوں کی معاونت کی گئی۔
اس کیٹیگری کے فائنلسٹس میں یونیورسٹی آف لیورپول کی مریم زاہد ملک اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ذیلِ ہما شامل تھیں۔
کلچر، کری ایٹیویٹی اینڈ اسپورٹ ایوارڈ
یہ ایوارڈ ثقافت، تخلیقی صنعتوں یا کھیل کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے سابق طلبہ کو دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز یونیورسٹی آف کیمبرج کی سابق طالبہ ڈاکٹر سلیحہ کمال کو دیا گیا۔ ڈاکٹر سلیحہ ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنفہ، ثقافتی نقاد اور اسکالر ہیں جن کی تحریریں عالمی سطح پر لاکھوں قارئین تک پہنچ چکی ہیں۔ وہ چیوننگ اور کیمبرج ٹرسٹ اسکالر رہ چکی ہیں اور متعدد ادبی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا کی آوازوں کو عالمی ادبی مکالمے میں نمایاں مقام دلانے کے لیے سرگرم ہیں۔
اس کیٹیگری کے فائنلسٹس میں کارڈف میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی زارا خدیجہ عباس اور یونیورسٹی آف ایسٹ لندن کے شہرُخ سہیل شامل تھے۔
پاکستان میں اسٹڈی یو کے ایلومنائی ایوارڈز کے فاتحین کو عالمی سطح پر نمایاں ہونے، نیٹ ورکنگ اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع حاصل ہوں گے۔ تمام قومی فاتحین اور فائنلسٹس کو عالمی سطح پر منتخب ہونے کا بھی موقع ملے گا، جس کے بعد انہیں خصوصی نیٹ ورکنگ دورے کے لیے برطانیہ مدعو کیا جائے گا، جہاں وہ اہم شخصیات اور دیگر ایوارڈ یافتگان سے ملاقات کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسولر پینلز صارفین کے بعد حکومت کی عام صارفین کو بھی جھٹکا دینے کی تیاری سولر پینلز صارفین کے بعد حکومت کی عام صارفین کو بھی جھٹکا دینے کی تیاری سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ منظور ڈی جی نیکٹا کاشف زمان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے وزیراعظم کے بیرون ملک روانگی کے پروگرام میں تبدیلی،نیا شیڈول سامنے آگیا میری رائے میں پاکستان اور بھارت واقعی شدید لڑائی لڑ رہے تھے: ٹرمپ غزہ، امریکی تھرموبیرک بموں کے استعمال کا انکشاف، 3 ہزار فلسطینیوں کا وجود ہی ختم، قطری میڈیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سابق طلبہ کو پاکستان میں برٹش کونسل میں نمایاں
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔