بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن بھی بول اٹھا۔

آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے پر قائم مودی حکومت کے دور میں اقلیتوں پر مبینہ مظالم میں اضافے کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جبکہ بی جے پی حکومت پر الزام ہے کہ وہ ہندوتوا کو سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کو ہجوم کے تشدد اور عبادت گاہوں پر حملوں کا سامنا ہے۔ ایسے واقعات کو انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، خصوصاً اوڑیسہ میں ایک پادری پر تشدد کے واقعے نے صورتحال کو مزید نمایاں کیا۔ کمیشن کے مطابق مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات کے تحت اقلیتوں کو غیر قانونی حراست اور حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

کمیشن نے اترپردیش میں گھر کے اندر عبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کی حراست کو بھی مثال کے طور پر پیش کیا۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں کے باعث بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کے تناظر میں اقلیتوں کو سماجی دھارے سے دور کیے جانے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل میں اقلیتوں بھارت میں

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا