بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتے مظالم، امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی تشویش
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن بھی بول اٹھا۔
آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے پر قائم مودی حکومت کے دور میں اقلیتوں پر مبینہ مظالم میں اضافے کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جبکہ بی جے پی حکومت پر الزام ہے کہ وہ ہندوتوا کو سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت میں مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کو ہجوم کے تشدد اور عبادت گاہوں پر حملوں کا سامنا ہے۔ ایسے واقعات کو انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، خصوصاً اوڑیسہ میں ایک پادری پر تشدد کے واقعے نے صورتحال کو مزید نمایاں کیا۔ کمیشن کے مطابق مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات کے تحت اقلیتوں کو غیر قانونی حراست اور حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
کمیشن نے اترپردیش میں گھر کے اندر عبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کی حراست کو بھی مثال کے طور پر پیش کیا۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں کے باعث بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور ان کے محفوظ مستقبل سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ آر ایس ایس کے نظریاتی ایجنڈے کے تناظر میں اقلیتوں کو سماجی دھارے سے دور کیے جانے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل میں اقلیتوں بھارت میں
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔