انڈہ خراب ہے یا تازہ؟ گھر بیٹھے دلچسپ اور آسان ٹیسٹ جان لیجیے!
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ناشتہ ہو یا بیکنگ کی تیاری، انڈہ روزمرہ خوراک کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور بیشتر گھروں میں اسے باقاعدگی سے استعمال کیا جاتا ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ فریج میں کئی ہفتوں سے رکھے انڈوں کے بارے میں یہ تشویش پیدا ہو جاتی ہے کہ آیا وہ اب بھی قابلِ استعمال ہیں یا نہیں۔
ماہرین غذائیت کے مطابق اگر انڈوں کو درست درجہ حرارت پر محفوظ کیا جائے تو وہ 3 سے 5 ہفتوں تک باآسانی قابلِ استعمال رہ سکتے ہیں، اس لیے محض وقت گزر جانے سے یہ فرض کر لینا درست نہیں کہ وہ خراب ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈوں کو فریج کے دروازے میں رکھنے کے بجائے اندرونی اور زیادہ ٹھنڈے حصے میں محفوظ کرنا چاہیے، کیونکہ دروازہ بار بار کھلنے سے درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، لیکن اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انڈہ پکانے کے لیے توڑا جائے اور وہ خراب نکل آئے، جس سے نہ صرف انڈہ ضائع ہوتا ہے بلکہ اگر وہ کسی پکوان میں شامل ہو چکا ہو تو پوری ڈش بھی پھینکنی پڑتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈے کو توڑے بغیر بھی اس کی تازگی جانچنے کا ایک نہایت آسان گھریلو طریقہ موجود ہے۔ اس کے لیے کسی مہنگے آلے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف ایک گلاس ٹھنڈا پانی کافی ہے۔
انڈے کو احتیاط سے پانی میں رکھ دیں، اگر وہ نیچے جا کر پہلو کے بل لیٹ جائے تو یہ اس کی تازگی کی علامت ہے۔ اگر وہ نیچے تو چلا جائے مگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے، البتہ اس کی عمر کچھ زیادہ ہو چکی ہوتی ہے، لیکن اگر انڈہ پانی کی سطح پر تیرنے لگے تو یہ واضح اشارہ ہے کہ وہ خراب ہو چکا ہے اور اسے ضائع کر دینا ہی بہتر ہے۔
ماہرین اس ٹیسٹ کی سائنسی وجہ بھی بیان کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ انڈے کے اندر ہوا کی مقدار بڑھتی جاتی ہے، جس سے اس کی کثافت کم ہو جاتی ہے اور وہ پانی میں تیرنے لگتا ہے۔
یہی سادہ سا مشاہدہ آپ کو کھانے کے ضیاع سے بچا سکتا ہے۔ اس طریقے نے سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے اور صارفین اسے مفید گھریلو ٹِپ قرار دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہے اور
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔