رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو، کیا پاکستان میں نظر آئے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رواں برس کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو رونما ہوگا اور ماہرین فلکیات کے مطابق یہ ایک اینولر یا جسے عام طور پر ’رِنگ آف فائر‘ کہا جاتا ہے، گرہن ہوگا۔
اس نایاب فلکیاتی مظہر میں چاند سورج کے عین سامنے آ جاتا ہے لیکن چونکہ وہ زمین سے نسبتاً زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے، اس لیے سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ نہیں پاتا اور اس کے گرد روشن دائرہ نمایاں دکھائی دیتا ہے جو آگ کے حلقے جیسا منظر پیش کرتا ہے۔
اس دلکش منظر کو دیکھنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے افسوسناک خبر یہ ہے کہ یہ گرہن پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق مکمل اینولر مرحلہ صرف انٹارکٹیکا کے مخصوص علاقوں میں دیکھا جا سکے گا جب کہ جنوبی امریکا اور جنوبی افریقا کے بعض حصوں میں جزوی سورج گرہن دکھائی دے گا۔ دنیا کے دیگر خطے اس نظارے سے محروم رہیں گے۔
پاکستانی وقت کے مطابق گرہن کا آغاز دوپہر 12 بج کر ایک منٹ پر ہوگا۔ اگرچہ مقامی طور پر اسے براہ راست دیکھنا ممکن نہیں، تاہم جدید ٹیکنالوجی نے اس خلا کو کسی حد تک پُر کر دیا ہے۔ مختلف عالمی ویب سروسز اس فلکیاتی مظہر کی براہ راست نشریات فراہم کریں گی، جس کے ذریعے دنیا بھر کے شائقین اس منظر سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق اینولر گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب چاند اپنے مدار میں اس مقام پر ہو جہاں وہ زمین سے نسبتاً دور ہو۔ اس فاصلے کی وجہ سے اس کا ظاہری حجم سورج کے مقابلے میں چھوٹا محسوس ہوتا ہے اور مکمل سورج گرہن کی طرح اندھیرا نہیں چھاتا بلکہ سورج کا بیرونی کنارہ روشن رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے “رِنگ آف فائر” کا دلکش نام دیا گیا ہے۔
فلکیات کے شوقین افراد کے لیے یہ سال کا ایک اہم واقعہ ہے جو کائنات کی حرکات اور سیاروی نظام کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔