افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی سے خطے کو سنگین خطرات لاحق، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ سرحد پار دراندازی، دہشتگرد حملوں اور مسلح جھڑپوں کے تسلسل نے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ وسیع تر خطے کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔
افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر بار بار پیش آنے والے واقعات کے بعد روس کی قیادت میں قائم کلیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (CSTO) نے اعلان کیا ہے کہ وہ تاجک سرحدی فورسز کو جدید اسلحہ اور آلات فراہم کرے گی تاکہ افغانستان سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے خطرے کی عکاسی کرتا ہے جو افغان سرزمین سے منظم سرگرمیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
مزید پڑھیں:امریکا نے افغانستان کو مذہبی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں والا ملک قرار دینے کی تجویز دے دی
حالیہ واقعات نے خطرے کی شدت واضح کر دی26 نومبر 2025 کو بدخشاں (افغانستان) سے اڑنے والے ایک کواڈ کاپٹر ڈرون نے تاجکستان میں ایک چینی تنصیب کو نشانہ بنایا، جس میں 3 چینی شہری ہلاک ہوئے۔ صرف 4 روز بعد 30 نومبر کو ایک اور حملہ افغانستان کی جانب سے کیا گیا جس میں چین روڈ اینڈ برج کارپوریشن کے 2 کارکن مارے گئے۔ یوں 4 دنوں میں 5 چینی شہری ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔
18 جنوری 2026 کو افغانستان سے دراندازی کرنے والے دہشتگردوں کو مسلح مزاحمت کے بعد ہلاک کیا گیا جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، ساز و سامان اور لاجسٹک مواد برآمد ہوا، جس سے منظم سرحد پار نیٹ ورک کی تصدیق ہوئی۔ 29 جنوری 2026 کو مسلح اسمگلرز افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہوئے جنہیں جھڑپ کے دوران مار دیا گیا، اور بھاری مقدار میں اسلحہ و منشیات قبضے میں لی گئیں۔
یہ تمام واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغان سرزمین دراندازی، اسمگلنگ اور دہشتگردی سے جڑی سرگرمیوں کے لیے اسٹیجنگ گراؤنڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگیاقوام متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشتگرد تنظیمیں سرگرم ہیں جبکہ قریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو مختلف گروہوں سے وابستہ ہیں۔
ان میں تحریک طالبان پاکستان (TTP)، داعش خراسان (ISIL-K)، القاعدہ، القاعدہ برصغیر (AQIS)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM/TIP) اور جماعت انصار اللہ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں:افغانستان سے ٹی ٹی پی حملوں میں اضافہ، پاکستان کی انسدادی کارروائیاں دہشتگردوں کے لیے بڑی ناکامی، اقوام متحدہ
یہ گروہ نہ صرف پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں بلکہ چینی شہریوں، علاقائی رابطہ منصوبوں اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہیں۔
نظریاتی اور سماجی عواملطالبان قیادت کے نظریات اور پالیسیوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ملک بھر میں مدرسوں کی تیز رفتار توسیع، خواتین کی تعلیم و روزگار سے بے دخلی اور سماجی پابندیوں نے افغانستان کو نظریاتی انتہا پسندی کی نرسری میں تبدیل کر دیا ہے۔ 40 ملین آبادی والے ملک میں 23 ہزار سے زائد مدارس کا قیام ایک ایسے تعلیمی ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے جہاں تنقیدی سوچ کے بجائے نظریاتی تربیت کو فوقیت حاصل ہے۔
خواتین کو عوامی زندگی، تعلیم اور ملازمت سے باہر رکھنے کے اقدامات غربت، محرومی اور سماجی تنہائی کو بڑھا رہے ہیں، جو شدت پسند تنظیموں کے لیے بھرتی کا سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔
علاقائی اور عالمی اثراتافغانستان سے پھیلنے والی بدامنی دہشتگردی، منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کی صورت میں سرحدوں سے باہر منتقل ہو رہی ہے۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک فوری نتائج بھگت رہے ہیں، جبکہ علاقائی تجارتی راہداریوں، توانائی منصوبوں اور رابطہ کاری کے اقدامات کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان رمضان سے قبل افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
ماہرین کے مطابق بغیر احتساب کے طالبان حکومت کو معمول پر لانا دہشتگردی کو تقویت دینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بین الاقوامی شمولیت کو مشروط، قابلِ تصدیق اور دہشتگرد نیٹ ورکس کے خاتمے سے منسلک ہونا چاہیے۔
علاقائی سطح پر انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی تعاون، مالی نگرانی اور مشترکہ سفارتی دباؤ پر مبنی حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں رہیں گے، کیونکہ افغانستان کو محض علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی دہشتگردی کے مرکز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
CSTO TTP افغانستان اقوام متحدہ خطے کو سنگین خطرات لاحق داعش طالبان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان اقوام متحدہ خطے کو سنگین خطرات لاحق طالبان افغانستان میں افغانستان سے اقوام متحدہ کے لیے
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔