اپوزیشن لیڈر نے پاک فوج پر الزامات لگانے کی کوشش کی: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف---فائل فوٹو
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے پاک فوج پر الزامات لگانے کی کوشش کی ہے، پاک فوج اپنے خون سے حلف کی تائید کر رہی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں انہوں نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کے بیان کو غیر ذمے دارانہ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ردِعمل دیا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پاکستان کی فوج 4 ضلعوں کی فوج ہے، اس قسم کے بیان کی ان سے توقع نہیں تھی، اس طرح کا غیر ذمے دارانہ بیان دینا مناسب نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ پاکستان کی فوج پورے ملک کی فوج ہے اور اس کا تشخص قومی ہے، گزشتہ 5 برسوں میں پاک فوج نے 3141 شہادتیں دی ہیں، 2021ء سے فروری 2026ء تک 170 افسران شہید ہوئے، جے سی اوز کی 212 اور جوانوں کی 2759 شہادتیں ہوئیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے خلاف عوام کے اتحاد سے ہی لڑا جا سکتا ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ 2034 شہادتیں ہوئیں، جبکہ بلوچستان میں 103، گلگت بلتستان میں 161، خیبر پختون خوا میں 534، پنجاب میں 1657 اور سندھ میں 452 شہادتیں ہوئیں۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے بعد کوئی بتائے کہ کیا افواجِ پاکستان 4 ضلعوں کی فوج ہے، پنجابیوں کا شناختی کارڈ دیکھ کر بلوچستان میں گولی ماری جاتی ہے اور اس پر بلوچستان سے آواز نہیں اٹھتی۔
انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن کا عہدہ قومی عہدہ ہے، کسی ضلع کا نہیں اور اس عہدے پر بیٹھ کر غیر ذمے دارانہ بیان دینا عہدے کی توہین ہے، یہ وطن اور قوم کی جنگ ہے، کسی ضلع کی نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ شہید ہماری ریڈ لائن ہیں، شہید کا تعلق کسی صوبے یا ضلع سے نہیں ہوتا، اس کے درجات بلند ہوتے ہیں اور وہ اول و آخر پاکستانی ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی نظریات رکھیں لیکن حملے نہ کریں، پاک فوج کسی صوبے یا ضلعے کی فوج نہیں ہے، دہشت گردی کی اس جنگ میں روزانہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ بلوچستان میں 200 سے زائد دہشت گرد مارے گئے، اسلام میں خون خرابے کی اجازت نہیں، ہمارے فوجیوں کی گردنیں تنوں سے جدا کی جاتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سیاستدان گرے ایریاز میں رہتے ہیں، پارٹیاں بدلتے ہیں لیکن ان شہیدوں نے کبھی پارٹیاں نہیں بدلیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج کی فوج
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔