گزشتہ سال سعودی عرب نے سب سے زیادہ پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: گزشتہ برس خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی واپسی کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہیں، جس کے مطابق ایک سال کے دوران ساڑھے 38 ہزار پاکستانی مختلف خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ ہوئے۔
نجی ٹی وی کی رپورت کے مطابق سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب سے واپس آئے، تعداد 27 ہزار 692 رہی، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 6 ہزار 794، عمان سے 2 ہزار 537 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ اسی طرح بحرین سے 786، قطر سے 644 اور کویت سے 163 پاکستانی واپس آئے۔
وزارتِ سمندر پار پاکستانی کے مطابق ڈی پورٹ ہونے والوں میں مختلف وجوہات شامل ہیں، جن میں مقدمات میں مفرور 6 ہزار 939، غیر قانونی داخلے یا زائد قیام کے لیے 4 ہزار 872، جیل میں قید 2 ہزار 500، بلیک لسٹ ہونے والے 1 ہزار 639، منشیات کے الزامات پر 1 ہزار 125، ویزا خلاف ورزی 936، چوری 190 اور بھیک مانگنے پر 780 پاکستانی شامل ہیں۔
مزید 332 افراد امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی اور 15 افراد انٹرول پول کے ذریعے واپس بھیجے گئے۔ مجموعی طور پر 14 ہزار سے زائد پاکستانی دیگر وجوہات کی بناء پر خلیجی ممالک سے واپس آئے۔
رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک میں پاکستانی ورک فورس کی نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد سخت ہے اور غیر قانونی طور پر قیام یا دیگر خلاف ورزیوں کی صورت میں ڈی پورٹیشن کا عمل فوری اور جامع طور پر لاگو کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خلیجی ممالک ڈی پورٹ
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔