پانڈا بانڈز کے حوالے سے بڑی خبر
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت پاکستان کی جانب سے چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز کا اجراء ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ کی ورکنگ مکمل نہ ہونے کے باعث بانڈز کا اجراء اب فروری کے بجائے مارچ 2026 میں کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ چوتھی بار ہے کہ پانڈا بانڈز کے اجراء کے پلان میں تبدیلی کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں ماہ فروری میں 25 کروڑ ڈالر مالیت کے پانڈا بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان بانڈز کی مدت 3 سال ہوگی اور ان پر شرح منافع سنگل ڈیجٹ رہنے کی توقع ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک ان بانڈز پر 95 فیصد تک گارنٹی فراہم کریں گے۔ پانڈا بانڈز کے ذریعے ابتدائی طور پر 25 کروڑ ڈالر کے مساوی چینی یوآن اکٹھے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب حکومت اپریل 2026 میں 1.
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر اس وقت 21 ارب 33 کروڑ ڈالر کی سطح پر ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے چوتھے اقتصادی جائزے کے دوران مزید ایک ارب ڈالر کے حصول پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پانڈا بانڈز
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔