سینیٹ اجلاس: ترلائی خودکش حملے کی شدید مذمت، قومی یکجہتی پر زور
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)سینیٹ اجلاس میں ترلائی مسجد پر خود کش حملے کی مذمت اور اراکین کی جانب سے دی جانے والی تجاویز پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ پمز اور پولی کلینک میں زیر علاج مریضوں کا ہر طرح سے خیال رکھا جا رہا ہے کہیں بھی کوئی کوتاہی قابل قبول نہیں،ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات سمیت ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حالیہ حملے میں شدید زخمی ہونے والے کچھ افراد کی حالت تشویشناک ہے ان کے لئے دعا گو ہیں کہ وہ جلد صحت یاب ہوں ۔
پریزائڈنگ آفیسر عامر ولی الدین چشتی کی صدارت میں شروع ہوا تو ایوان میں معمول کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے اسلام آباد میں حالیہ دہشتگردی کے واقعے پر بحث جاری رکھی گئی ۔۔ترلائی مسجد میں حملے کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے اراکین نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کسی طور پر منظور نہیں ۔ دہشت گردی جیسے ناسور سے ملک کو پاک کرنے کے لئے ہم سب کو سیاسی اختلافات کو بھلا کر یک جہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔
سینیٹ میں دارالحکومت میں فروخت کی جانے والی ، کتب پر پلاسٹک کوور کی ممانعت کا بل 2025 منظور کر لیا گیا ۔ فوجداری قوانین ترمیمی بل 2023 منظور، انسداد جرائم برقی ترمیمی بل 2024 ، مجموعہ تعزیرات پاکستان ترمیمی بل 2024 منظور کر لئے گئے۔بعدازاں سینیٹ کا اجلاس جمعرات سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔