لاہور کے بعد اب وادیِ کوئٹہ آسمان کو رنگ برنگی پتنگوں سے سجانے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
کوئٹہ:
زندہ دلانِ لاہور میں بسنت 2026 کے رنگ جمانے کے بعد اب کوئٹہ بھی اس خوشگوار تہوار کا حصہ بننے جا رہا ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت میں 13، 14 اور 15 فروری (جمعہ سے اتوار) تک تین روزہ بسنت میلہ منانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے، جس پر شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
شہر بھر میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ بازاروں میں رنگ برنگی پتنگوں، مضبوط ڈور، پیلے لباس اور بسنت کی دیگر اشیا کی دھوم مچ گئی ہے۔
گرد سنگھ روڈ، پرنس روڈ، علمدار روڈ، کاسی روڈ، سرکی روڈ، جان محمد روڈ، سبزل روڈ، نوا کلی، بروری روڈ، جیل روڈ، لیاقت بازار اور دیگر علاقوں میں خریداری کا سلسلہ جاری ہے، جہاں لوگ پتنگوں کی نئی ڈیزائن دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
آسمان جلد ہی رنگین پتنگوں سے بھر جانے کا امکان ہے جبکہ مختلف علاقوں میں مقامی ثقافتی پروگرامز، موسیقی اور روایتی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔
کوئٹہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تہوار شہر میں تفریحی مواقع کی کمی کو پورا کرے گا۔ ایک شہری مصباح ایڈووکیٹ نے بتایا کوئٹہ جیسے شہر میں جہاں روزمرہ زندگی کے مسائل بہت ہیں، بسنت جیسا تہوار نہ صرف خوشی لائے گا بلکہ سماجی ہم آہنگی اور مثبت تشخص کو بھی فروغ دے گا۔ ہاں اگر یہ تہوار حکومتی سطح پر ہوتا تو اور بھی دلچسپ ہوتا تاہم لاہور کے بعد یہاں بسنت کا انعقاد سیاحت کے لیے بھی اچھا پیغام ہے۔
منتظمین کے مطابق یہ تقریبات مختلف علاقوں میں منعقد ہوں گی، جن میں پتنگ بازی کے علاوہ مقامی فنکاروں کی پرفارمنسز، روایتی کھانوں کے اسٹالز اور خاندانی تفریح کا خاص اہتمام ہوگا۔ یہ میلہ کوئٹہ میں ایک نئے ثقافتی باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جو شہریوں کو چند دنوں کے لیے روزمرہ کی پریشانیوں سے دور لے جائے گا اور خوشیوں کے رنگ بکھیرے گا۔
یاد رہے کہ لاہور میں بسنت کے بعد یہ دوسرا بڑا شہر ہے جہاں یہ تہوار دوبارہ بحال ہو رہا ہے۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ تہوار کو پرامن اور محفوظ طریقے سے منائیں ،حفاظتی تدابیر پر عمل کریں تاکہ یہ خوشی کا موقع کسی ناخوشگوار واقعے کا شکار نہ ہو۔
دوسری جانب اب تک حکومتی سطح پر یہ تہوار منانے اور کینسل کرنے کے حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ