پشاور:(طارق سمیر)وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے دنیا مان گئی کہ پاکستان آسمانوں پر راج کرنے والا چیمپئن ہے، ملک کو آگے لے جانے کےلیے ہمیں میرٹ کو اپنانا ہوگا، لیپ ٹاپ خالصتاّ میرٹ پر دیئے جا رہے ہیں، نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل ہے.
ان خیالات کا اظہار
انہوں نے بدھ کو خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت طلبہ میں لیپ ٹاپس تقسيم کرنے کی تقریب سے بطورِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا.
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ اس تقریب میں موجود خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضیاء الحق(ہلال امتیاز) ہمارا فخر ہے، مجھے خوشی ہے کہ آج میں آپ کے درمیان موجود ہوں. انہوں نے کہا نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل ہے، لیپ ٹاپ میرٹ کی بنیاد پر دیئے جا رہے ہیں. وفاقی وزیر نے کہا کہ لیپ ٹاپ سکیم کا آغاز اس وقت کے پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف نے 2011 میں کیا، جب وفاق میں وزیراعظم نوازشریف کی حکومت آئی تو انہوں 2013 میں پورے پاکستان کےلیے اس اسکیم کا آغاز کیا اور انتہائی کامیابی کے ساتھ جاری رہا لیکن بدقسمتی سے 2018 میں اس کو بند کردیا گیا اور چار سال بند ہونے کے بعد 2022 میں وزیراعظم شہباز شریف نے اس پروگرام کو دوبارہ بحال کیا. وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم خالصتاّ میرٹ کی بنیاد پر چل رہا ہے، اگر اس ملک کو آگے لیکر جانا ہے تو ہمیں میرٹ کو اپنانا ہوگا، میں اس موقع پر لیپ ٹاپ حاصل کرنے والوں اور ان کے والدین کو داد دینا چاہتا ہوں کہ آپ کے بچوں نے میرٹ پر لیپ ٹاپ حاصل کیا. یہ اسکیم سو فیصد میرٹ پر مبنی ہے. انہوں نے طلبہ کو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کا مستقبل آپ ہے اور آپ نے ہی اس ملک کو چلانا ہے، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ جوانوں پر سرمایہ کاری ملک کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے. انہوں نے کہا کہ ہم خیبرپختونخوا کے عوام اسلام آباد میں دہشتگردی اور اس سے قبل بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، ہمارا صوبہ دہشتگردی کا شکار رہا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام کو امن کی اہمیت کا اندازہ ہے، یہاں اے پی ایس سانحے کی یاد اب بھی تازہ ہے. اس لئے ہم سب کو امن کےلیے کردار ادا کرنا ہوگا. جب امن ہوگا تو تعلیم بھی حاصل کریں گے، روزگار بھی ہوگا، اس لیے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے.- انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دفاع پاکستان مضبوط ہاتھوں میں تھی. افواج پاکستان نے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اپنے آپ سے دس گنا بڑے دشمن کو ایسی شکست دی کہ ان کے بچے بھی یاد رکھیں گے، اس وقت لوگوں میں ایک جذبہ دیکھا جو قابل دید تھا. اگر یہ جذبہ ایمانی ہے تو پاکستان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا. انہوں نے کہا کہ ہماری نیت صاف ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کو طلبہ کو کچھ نہ دیں اور ہمیں بھی طلبہ کو لیپ ٹاپس اور سہولیات دینے سے روکے. وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ میری کوئی ایسی خواہش نہیں تھی کہ میں وزیر بنوں، لیکن ہم نے خدمت کو عبادت سمجھا، مجھ پر جان لیوا حملے ہوئے لیکن کبھی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹا. انہوں نے کہا کہ خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے، ایک دن اللہ تعالی آپ سے بڑا کام لیں گے. انہوں نے کہا کہ طب کا پیشہ مشکل ترین پیشہ ہے، آپ میں جب خدمت کا جذبہ نہ ہو تو کامیاب ڈاکٹر نہیں بن سکتے. جب خدمتِ خلق کا جذبہ ہو تو کامیابی مقدر ہوگی، اگر پاکستانیت کا جذبہ نہ ہو تو کچھ نہیں رہے گا، یہ ملک ہوگا تو ہم سب ہوں گے. انہوں نے کہا کہ آپ کے جو بھی مسائل ہوں گے، ان کے حل میں تعاون کےلیے کردار ادا کریں گے. انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد پاکستان کے وقار میں بے حد اضافہ ہوا. باہر دنیا مان گئی ہے کہ پاکستان آسمانوں پر راج کرنے والا چیمپئن ہے. قبل ازیں وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وائس چانسلر کے ایم یو پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق، فیکلٹی ممبران اور انتظامی افسران نے وفاقی وزیر کا خیرمقدم کیا. اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے وفاقی وزیر کو یونیورسٹی کی تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی. انہوں نے کے ایم یو کی تعلیمی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں، تحقیقی سرگرمیوں اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے آگاہ کیا. وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے یونیورسٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری طبی تعلیم اور تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت اس شعبے کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی. انہوں نے کہا کہ کے ایم یو نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ ملک بھر میں طبی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے. وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت تعلیمی اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور درپیش مسائل کے حل کےلیے سنجیدہ اقدامات کرے گی. وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے یونیورسٹی لان میں یادگار درخت بھی لگایا.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :