Islam Times:
2026-07-23@23:42:27 GMT

یورپی بچے ہیں، انہیں بڑا ہونا چاہئے، واشنگٹن

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT

یورپی بچے ہیں، انہیں بڑا ہونا چاہئے، واشنگٹن

میونخ سیکیورٹی کانفرنس کی تقریب رونمائی سے اپنے ایک خطاب میں میتھو وائیٹکر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، نیٹو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمارے یورپی اتحادی اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ پیر کے روز 13 سے 15 فروری تک میونخ سیکیورٹی کانفرنس (MSC) ہونے والی ہے، جس کے منتظمین نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر نیٹو میں امریکی نمائندے "میتھو وائیٹکر" نے یورپی اتحادیوں کو بچوں سے تشبیہ دی کہ جو بالآخر والدین کے سائے سے نکل کر خود ذمہ دار بننا سیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کئی دہائیوں تک امریکی سلامتی کی چھتری تلے پروان چڑھا، جس کی بدولت یورپ کو سخت سیکورٹی کے مسائل میں الجھنے کی بجائے یک جہتی اور خوشحالی پر توجہ دینے کا موقع ملا۔ لیکن اب وہ دور ختم ہو چکا ہے۔ میتھو وائٹیکر نے اس رپورٹ کی رونمائی کی تقریب میں کہا کہ میں نے جو کچھ سنا، اسے میں یکسر مسترد کرتا ہوں۔ واشنگٹن، نیٹو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمارے یورپی اتحادی اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھائیں۔ انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں، تو وہ آپ پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن آخر کار آپ توقع کرتے ہیں کہ وہ کوئی کام ڈھونڈیں۔ میرے نزدیک، اب ہم اسی مقام پر ہیں۔ ہم اب بھی یورپ سے محبت کرتے ہیں، آپ اب بھی ہمارے اتحادی ہیں۔ 
  امریکی نمائندے نے سال 2024ء میں یورپی اتحادیوں کی جانب سے اپنے فوجی اخراجات کو 5 فیصد تک بڑھانے کے ارادے کو سراہا۔ لیکن اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ اس بجٹ کو حقیقی فوجی صلاحیتوں میں تبدیل کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یورپ میں قیام کے دوران ایک چیز جو میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ یہاں باتیں بہت ہوتی ہیں، لیکن عمل کم۔ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کچھ اسی طرح کی باتیں اپنے پہلے دور حکومت میں بھی کر چکی ہیں کہ وہ یورپی اتحادیوں سے تھوڑا فاصلہ لینا چاہتے ہیں تاکہ اپنی توجہ چینیوں سے اپنی سرزمین کے دفاع پر مرکوز کر سکیں۔ دوسری جانب گزشتہ سال نیٹو کے سیکرٹری جنرل "مارک روٹہ" نے ہیگ اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈیڈی کہہ کر مخاطب کیا تو ان کا تمسخر اڑایا گیا اور چاپلوسی کا طعنہ دیا گیا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر اس تشبیہ سے بہت خوش ہوئے اور صحافیوں سے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ انہیں پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں وہ مجھے پسند کرتے ہیں، اگر نہیں، تو میں واپس آکر انہیں زور دار تھپڑ ماروں گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرتے ہیں انہوں نے ہیں کہ کہا کہ

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع