یورپی بچے ہیں، انہیں بڑا ہونا چاہئے، واشنگٹن
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
میونخ سیکیورٹی کانفرنس کی تقریب رونمائی سے اپنے ایک خطاب میں میتھو وائیٹکر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، نیٹو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمارے یورپی اتحادی اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ پیر کے روز 13 سے 15 فروری تک میونخ سیکیورٹی کانفرنس (MSC) ہونے والی ہے، جس کے منتظمین نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر نیٹو میں امریکی نمائندے "میتھو وائیٹکر" نے یورپی اتحادیوں کو بچوں سے تشبیہ دی کہ جو بالآخر والدین کے سائے سے نکل کر خود ذمہ دار بننا سیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کئی دہائیوں تک امریکی سلامتی کی چھتری تلے پروان چڑھا، جس کی بدولت یورپ کو سخت سیکورٹی کے مسائل میں الجھنے کی بجائے یک جہتی اور خوشحالی پر توجہ دینے کا موقع ملا۔ لیکن اب وہ دور ختم ہو چکا ہے۔ میتھو وائٹیکر نے اس رپورٹ کی رونمائی کی تقریب میں کہا کہ میں نے جو کچھ سنا، اسے میں یکسر مسترد کرتا ہوں۔ واشنگٹن، نیٹو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمارے یورپی اتحادی اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھائیں۔ انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں، تو وہ آپ پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن آخر کار آپ توقع کرتے ہیں کہ وہ کوئی کام ڈھونڈیں۔ میرے نزدیک، اب ہم اسی مقام پر ہیں۔ ہم اب بھی یورپ سے محبت کرتے ہیں، آپ اب بھی ہمارے اتحادی ہیں۔
امریکی نمائندے نے سال 2024ء میں یورپی اتحادیوں کی جانب سے اپنے فوجی اخراجات کو 5 فیصد تک بڑھانے کے ارادے کو سراہا۔ لیکن اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ اس بجٹ کو حقیقی فوجی صلاحیتوں میں تبدیل کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یورپ میں قیام کے دوران ایک چیز جو میں نے محسوس کی وہ یہ ہے کہ یہاں باتیں بہت ہوتی ہیں، لیکن عمل کم۔ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کچھ اسی طرح کی باتیں اپنے پہلے دور حکومت میں بھی کر چکی ہیں کہ وہ یورپی اتحادیوں سے تھوڑا فاصلہ لینا چاہتے ہیں تاکہ اپنی توجہ چینیوں سے اپنی سرزمین کے دفاع پر مرکوز کر سکیں۔ دوسری جانب گزشتہ سال نیٹو کے سیکرٹری جنرل "مارک روٹہ" نے ہیگ اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈیڈی کہہ کر مخاطب کیا تو ان کا تمسخر اڑایا گیا اور چاپلوسی کا طعنہ دیا گیا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر اس تشبیہ سے بہت خوش ہوئے اور صحافیوں سے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ انہیں پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں وہ مجھے پسند کرتے ہیں، اگر نہیں، تو میں واپس آکر انہیں زور دار تھپڑ ماروں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہیں انہوں نے ہیں کہ کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔