اب قیامت تک بابری مسجد نہیں بنے گی؛ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
مودی کے قریبی یار اور مسلم دشمنی کے لیے مشہور اترپردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بار پھر ہرزہ سرائی کی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ مسلمانوں کے لیے حساس ترین موضوع بابری مسجد کو ایک بار پھر زیر بحث لے آئے ہیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے بابری مسجد کی دوبارہ خواہش رکھنے والے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے دھمکی دی کہ بابری مسجد اب کبھی دوبارہ تعمیر نہیں ہوگی۔ قیامت تک بھی نہیں۔
انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کی جگہ تعمیر ہونے والا رام مندر ایک تاریخی حقیقت ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بابری مسجد کی ازسرِ نو تعمیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وزیرِ اعلیٰ اترپردیش نے کہا کہ بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کا خواب دیکھنے والے ہمیشہ مایوس رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بابری مسجد رام کی جنم بھومی پر تعمیر کی گئی تھی۔ جہاں اب رام مندر بن چکا ہے لہٰذا اس معاملے کو دوبارہ چھیڑنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
یاد رہے کہ بابری مسجد کو ہندو انتہاپسندوں نے 1992 میں منہدم کر دیا گیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ دہائیوں تک بھارتی عدالتوں میں زیرِ سماعت رہا۔
جس کے بعد معاملہ عدالت گیا اور 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے متنازعہ اراضی ہندو فریق کے حوالے کرنے اور مسلمانوں کو متبادل جگہ پر مسجد کی تعمیر کے لیے زمین دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔
بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد مودی نے ایک بہت بڑی افتتاحی تقریب میں رام مندر کی تعمیر کے لیے پہلی اینٹ رکھی تھی۔ جو اب تکمیل کے مراحل میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بابری مسجد کی کے لیے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان