کم سن گھریلو ملازمہ تشدد کیس: وومن میڈیکل افسر سمیت دیگر حکام کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2026 GMT
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے کم سن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کے معاملے میں استغاثہ کے گواہان کی مسلسل عدم پیشی پر وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے غیر حاضر گواہان کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا کی وومن میڈیکل آفیسر مریم فاطمہ، محمد نواز سب انسپکٹر، قاسم ضیاء سب انسپکٹر، اعجاز احمد سب انسپکٹر، محمد حنیف سب انسپکٹر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
اسی طرح ریسکیو 1122 سرگودھا کے میڈیکل ایمرجنسی ٹیکنیشکن منور عباس اور پولیس خدمت کاونٹر ڈی ایچ کیو سرگودھا میں تعینات پولیس ملازم کنول کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ عدالت نے پولیس ملازمین شفیق حسین، سجاد حسین اور شمریز اقبال کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے۔
عدالت نے تمام متعلقہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکنے کا بھی حکم دیا۔ عدالت کے مطابق تمام سرکاری ملازمین رضوانہ تشدد کیس میں گواہ ہیں اور انہیں متعدد بار طلب کیا جا چکا ہے۔ گواہان کی مسلسل عدم پیشی پر عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری جاری سب انسپکٹر عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔